بریکنگ نیوز: آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کا اعلان : دنیا کے 27 ممالک نے ترکی کے خلاف بڑا اعلان کردیا

انقرہ (ویب ڈیسک) یورپی یونین کے تقریبا ًتمام ارکان نے ترکی میں تاریخی آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدر طیب اردگان کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ یورپی یونین میں خارجی امور کے سربراہ جوسیپ بوریل کا کہنا ہے کہ تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو میوزیم سے

مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے حوالے سے ترکی اور یوروپی یونین کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور یونین کے سبھی 27 ارکان نے متفقہ طور پر ترکی کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ”ایسی شاندار علامتی عمارت کو تبدیل کرنے کے فیصلے کی یورپی یونین کے تمام 27 وزرائے خارجہ نے مذمت کی ہے۔”کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے یورپی یونین کے وزرا ئے خارجہ کی یہ میٹنگ کئی ماہ بعد منعقد ہوئی تھی۔ میٹنگ کے بعد جوسیپ بوریل نے کہا، ”اس فیصلے سے لامحالہ طور پر عدم اعتماد کو تقویت ملے گی، مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان تقسیم کو فروغ ملے گا اور ہمارے درمیان جاری بات چیت اور تعاون کو نقصان پہنچے گا۔”انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر غور و فکر کے دوران تقریبا ًسبھی کی جانب سے اس بات کی حمایت کی گئی کہ اس فیصلے پر نظرثانی کرنے اور اس کو واپس لینے کے لیے ترکی کے حکام سے فوری طور پر ملاقات کی جانی چاہیے۔استنبول میں واقع تاریخی عمارت آیا صوفیہ کوبنیادی طور پر ایک گرجا گھر کے طور پر قریب پندرہ سو برس قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ سن 1534 میں عثمانی سلطنت کے زمانے میں سلطان محمد ثانی نے استنبول کو فتح کرنے کے بعد اس پرشکوہ گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ مسجد سے قبل یہ نو سو برس تک مسیحی عبادت گزاروں کے لیے ایک گرجا گھر تھا۔ اس کو مسجد میں پھر سے تبدیل کرنے پر پوپ اور دیگر مسیحی برادری کے لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں