آغا علی کا اسراء بلجیک پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

آغا علی کا اسراء بلجیک پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار آغا علی کا کہنا ہے کہ اداکار ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنا پسند کرتے ہیں اور جب کسی اداکار کو دوسرے ملک سے کسی پراجیکٹ کی آفر ہو تو یہ اس کیلئے قابل فخر لمحہ ہوتا ہے۔

اپنے ایک انٹر ویو میں اسرا بلجیک نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے تین مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں اور وہ اس بات کا باقاعدہ اعلان کچھ دن میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے کریں گی۔تاہم اب گذشتہ روزان میں سے ایک برانڈ کے لیے اداکارہ کے اشتراک کا اعلان ہوگیا ہے اور انہیں ایک موبائل کمپنی کا برانڈ ایمبسیڈر بنادیا گیا ہے۔

اسمارٹ فون کمپنی کیو موبائل نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اعلان کیا تھا کہ ترک اداکارہ ان کی نئی ڈیوائس ویو میکس پرو کے لیے برانڈ ایمبیسڈر بن گئی ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ پہلا پاکستانی برانڈ ہے جس نے ارطغرل ڈرامے سے شہرت پانے والی اداکارہ کو اپنے نئے فون کی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

کمپنی کے اس اعلان کے بعد اداکار یاسر حسین نے غیر ملکی برانڈ ایمبیسیڈر کے خلاف آواز بلند کی جس کی حمایت اداکارہ ایمن خان اور اداکارہ منال خان نے بھی کی-

یاسر حسین نےاپنی انسٹاگرام سٹوری میں لوگوں سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر پاکستانی ہونی چاہئے؟ نہ بھارتی اور نہ ترک اداکارہ؟یاسر حسین نے کہا تھا کہ کیا ماہرہ خان، صباقمر، سونیاحسین، منال خان، ایمن خان، امر خان، زارا نور عباس، ہانیہ عامر ، ثنا جاوید، یمنی زیدی، ارمینہ خان، سارہ اور حرامانی کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟

یاسر حسین نے لکھا تھا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو سپورٹ کریں پاکستان زندہ باد۔ یاسر حسین نے اپنی اہلیہ اقرا عزیز کا نام نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اقرا کانام اس لیے نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ایک موبائل برانڈ کی ایمبسیڈر ہے۔

اس کے بعد آغا علی نے اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے پر جواب دیتے ہوئے اپنی ایک انسٹاگرام اسٹوری شیئر کی-

انہوں نے لکھا کہ اداکار ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنا پسند کرتا ہے اور جب کسی اداکار کو دوسرے ملک سے کسی پراجیکٹ کی آفر ہو تو یہ اس کیلئے قابل فخر لمحہ ہوتا ہے۔

آغا علی کا کہنا تھا کہ ایسا ہی جب پاکستانی کمپنی کسی غیرملکی اسٹار کو برانڈ ایمبیسیڈر بنائے تو یہاں کے فنکار غیر محفوظ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ جیسے غیر ملکی اسٹارز اُن کے پروجیکٹس اور کام پر ڈاکہ ڈالنے آئے ہیں۔

آغا علی نے لکھا کہ ’للہ نے جو آپ کے نصیب میں لکھا ہے اس سے نہ زیادہ ملے گا نہ ہی کم تو لہذا دوسرے ممالک کے فنکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور اپنے لوگوں کو غیر محفوظ محسوس نہ کروائیں آنے دو جو آتا ہے خوش رہو اور محنت کرو۔

انہوں نے ایک اور سٹوری میں لکھا کہ فواد اور ماہرہ جب اپنا کام اپنے پروجیکٹس ادھورے چھوڑ کر بھارت سے وطن واپس آئے تو ہمیں بہت بُرا لگا تھا اسی طرح اگر ترکی یا کسی اور ملک کے اداکار یہاں سے جائیں گے تو یقیناً وہاں کے لوگوں کو بُرا لگے گا اور ترکی جو پیار اور عزت دیتا ہے پاکستانیوں کو کیا یہ تعلق ایسا ہی رہے گا-

آغا علی کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی غیر ملکی اداکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور انہیں اُن کے ملک کی طرح پیار اور عزت دیں۔

اداکار نے لکھا کہ پاکستان کی عزت بھی اسی میں ہے باقی جو آپ کو ٹھیک لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں