بچوں سے بدفعلی کے ملزم سہیل کو ٣ بار سزائے موت

بچوں سے بدفعلی کے ملزم سہیل کو ٣ بار سزائے موت

انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چونیاں میں بچوں سے زیادتی اور قتل کرنے والے ملزم کو ایک اور مقدمے میں تین بار سزائے موت ، پچیس سال قید اور 32 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔

انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کا ٹرائل مکمل کیا اور فیصلہ سنایا۔عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم سہیل شہزاد کو تین بار سزائے موت اور ایک بار عمر قید کی سزا سنائی، سپیشل پراسیکیوٹر میاں طفیل اور رانا عبدالجبار نے ملزم کے خلاف عدالت میں 15 سے زائد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرائے ،

سانحہ چونیاں کیس کے ملزم سہیل شہزادہ کے خلاف مزید دو کیسز کا فیصلہ آنا باقی ہے ، ملزم کو چونیاں میں چار بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ملزم کی گرفتاری کا اعلان وزیر اعلیٰ نے پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

گزشتہ برس 17 ستمبر کو بھی انسداددہشت گردی عدالت کے جج محمد اقبال نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے ملزم سہیل شہزاد کو عمر قید اور 3بارسزائےموت کاحکم دیا تھا، 4 کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم سہیل کا 342کاحتمی بیان قلمبند کیا گیا ،عدالت نے3دنوں میں23گواہان کے بیانات قلمبند کیے.

پولیس کے مطابق ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا، ملزم نے چاروں وارداتیں کیں،ملزم کا نام سہیل شہزاداورعمر 27سال ہے، ملزم نے 4 معصوم بچوں کوزیادتی کانشانہ بنایا

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سانحہ چونیاں میں 4 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم کا نام سہیل شہزاد تھا جس کی عمر 27 سال ہے، چاروں وارداتیں اسی ملزم نے سر انجا م دیں تھیں،ملزم سہیل شہزاد لاہور میں تندور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا ہے اور غیر شادی شدہ ہے۔حکام کے مطابق ملزم نے چاروں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا،معاملے کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر کی گئیں، 1649 مشکوک افراد کی جیو فینسنگ کی گئی، بچے فیضان اور علی حسن کے کپڑوں سے ملنے والے نمونے ملزم سے میچ کر گئے تھے، ایک بچے کی لاش اور 3 بچوں کی ہڈیوں کے ڈی این اے سے ملزم کی شناخت کی گئی تھی

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ چونیاں‌ کا مرکزی ملزم پکڑے جانے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مبارکباد دی ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں یہ ٹیسٹ کیس تھاجس میں اللہ نےہمیں سرخروکیا،

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغآم میں‌ لکھا ہے کہ قصور میں عوامی مفاد کیلئے کام نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، قصور کے واقعات پر سب کا احتساب کیا جائے گا، وہ تمام لوگ جو عام آدمی کے مفاد میں کام نہیں کر رہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، انہوں نے پنجاب پولیس اور حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیل بھی بتائی،

وزیراعلیٰ‌ پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے، انہوں نے کہاکہ قصورمیں واقعات پہلےبھی ہوئے ہیں، چونیاں کیس میں اہم سراغ مل گیاہے، چونیاں کیس میں ملزمان کے پولی گرافک ٹیسٹ کیےگئےہیں، ملزم سہیل شہزادنےبچوں کوقتل کیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے ملزم کی تصویر بھی میڈیا کو دکھائی، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کا نام سہیل شہزاد ہے جس کی عمر 27 سال ہے، چاروں وارداتیں اسی ملزم نے سر انجا م دیں، ملزم سے مزید تفتیش کی جارہی ہے، وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ ملزم سہیل شہزاد لاہور میں تندور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا ہے اور غیر شادی شدہ ہے، اس نے چاروں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا،

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر کی گئیں، 1649 مشکوک افراد کی جیو فینسنگ کی گئی، بچے فیضان اور علی حسن کے کپڑوں سے ملنے والے نمونے ملزم سے میچ کر گئے، ایک بچے کی لاش اور 3 بچوں کی ہڈیوں کے ڈی این اے سے ملزم کی شناخت کی۔ کیس کے حوالے سے متعلقہ اداروں نے بہت محنت کی ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سردار عثمان بزدار نے بتایا کہ 1649مشکوک افرادکےٹیسٹ کروائےگئے، بچے فیضان اور علی حسن کے کپڑوں سے ملنے والےنمونےمیچ کرگئےہیں،

واضح‌ رہے کہ قصور کی تحصیل چونیاں سے گزشتہ دنوں 4 بچے لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے ایک بچے کی لاش اور 2 کے ڈھانچے برآمد ہوئے تھے، قصور واقعہ پر شہریوں کی طرف سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے اور کھڈیاں، قصور اور دیگر علاقوں‌ میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں، چونیاں‌ میں پیش آنے والے اس واقعہ کے خلاف لوگوں‌ میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے،

اپنا تبصرہ بھیجیں