کیا " اگست " سے شادی ہال کھل جائیں گے؟

کیا ” اگست ” سے شادی ہال کھل جائیں گے؟

عمران خان صاحب آپ نے تو بڑی شادیاں کرا لیں جنہوں نے شادیاں کروانی ہیں انکا سوچیں،شادی ہالز کھولیں، مزدور سڑکوں پر آ گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں شادی ہالز اور اس سے متعلقہ انڈسٹری کی بندش پر مزدوروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں آل پاکستان کیٹرنگ ایسوسی ایشن ، ساؤنڈ ایسوسی ایشن اور مارکیز ایسوسی ایشن نے مال روڈ پر مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران بند کئے گئے شادی ہالز کو کھولا جائے، شادی ہالز کی بندش سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں

احتجاجی مظاہرے میبں شریک خاتون مسرت جٹ کا کہنا تھا کہ میرا ڈیکور کا کام ہے اور چار ماہ سے کام ٹھپ ہے،13 مارچ کو ہمارا کام کرونا کی وجہ سے بند کر دیا گیا، چار ماہ ہو گئے ہمارے گھر فاقے پڑے ہوئے ہیں، ہم نے چار ماہ صبر کیا لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز کھل گیا،غلہ منڈی،مویشی منڈی، سبزی منڈی، ہال روڈ، سب کھل گیا پتہ نہین شادی ہالز والوں کے ساتھ عمران خان کی کیا دشمنی ہے عمران خان آپ تو بڑی شادیاں کرا لی ہیں جنہوں نے شادیاں کروانی ہیں انکا سوچیں ،بہت مزدوروں کا روزگار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے، انکے گھروں کے چولہے بند نہ کریں ، خدا را ہم پر رحم کریں،ہماری درخواست ہے ہاتھ جوڑ کر منت کرتے ہین ہمارا کاروبار کھول دیں، گھروں کی چیزیں بیچنے کی نوبت آ گئی ہے، گھروں دکانوں کے مالک کرائے مانگتے ہیں اور یہ بھی پوچھنا ہے کہ ہم بجلی کے بل جلا دیں یا جمع کروائیں، جمع کہاں سے کروائیں روزگار ہی نہیں،

مظاہرے میں شریک اور شخص کا کہنا تھا کہ شمالی لاہور ساؤنڈ ایسوسی ایشن کا صدر ہوں، شمالی لاہور میں 5 ہزار کے قریب لائٹس اور ساؤنڈ کے لوگ ہیں، ورکرز کی تعداد لاہور میں بہت زیادہ ہے جو بے روزگار ہو چکے ہیں، ایک شادی ہال یا ایونٹ منیجمنٹ والے ایک نہین بہت لوگ ہوتے ہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کے مطابق ہونا چاہئے، جتنا کام ایس او پیز کے تحت شادی ہال میں ہوتا ہے ایسا کہیں نہیں ہوتا

ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ میرا لائٹ کا کام ہے، میرے ساتھ 10 بندے کام کرتے ہیں،4 ماہ سے ہم بھوکے مر رہے ہیں کوئی کام نہیں، ہم سفید پوش لوگ ہیں مانگ نہیں سکتے، ہمارا کاروبار کھولا جائے، سب بے روزگار ہیں

زبیر احمد کا کہنا تھا کہ 30 سال سے کاروبار کر رہے ہیں، مجبور ہو کر سڑکوں پر آئے ہیں حکومت سے درخواست ہے کہ ہمارا کاروبار بحال کریں، بے روزگاری ،بھوک کرونا سے زیادہ خطرناک ہے، لوگ بھوک کی وجہ سے نفسیاتی مریض، چور بن گئے ہین، ہماری فریاد سنی جائے ہم بھی انسان اور پاکستانی ہین، ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں، ہم بھوک کے ساتھ ہیں، ہماری بھوک کی جنگ ہے

زبیر احمد کا کہنا تھا کہ حکومتی نمائندے ہمیں لولی پوپ دیتے ہیں لیکن وعدے پورے نہین کیے جا رہے، آج ہم یہیں رہیں گے، مر جائیں گے یہاں سے نہین جائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں