مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پھر فاصلے بڑھنے لگے

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پھر فاصلے بڑھنے لگے

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چوہدری منظور نے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کے انٹرویو پر ردعمل میں کہا ہے کہ رانا ثنااللہ صاحب پورا پاکستان جانتا ہے کہ بلاول بھٹو نے بجٹ سے قبل اے پی سی کے انعقاد کی بھرپور کوشش کی،

چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے بجٹ سے قبل تمام پارٹیوں سے رابطے کئے مگر بدقسمتی سے اے پی سی نہ ہوسکی، بلاول بھٹو نے بجٹ کے بعد بھی اے پی سی کے انعقاد کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں، بلاول بھٹو نے اے پی سی کے انعقاد کی کوششوں کے سلسلے میں ایک ہفتہ لاہور میں قیام کیا،

چوہدری منظورکا مزید کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن کی بڑی پارٹی کا اے پی سی کے لئے انتظار ہی کرتے رہے لیکن اے پی سی پھر بھی نہ ہوئی، بلاول بھٹو نے لاہور میں اسپیکر قومی اسمبلی سے متعلق کہا کہ ان کے جانب دارانہ روئیے کے معاملے کو اپوزیشن کو دیکھنا چاہئیے، اسپیکر کی نگرانی میں حکومتی بینچوں سے ہماری قیادت اور تمام اپوزیشن کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے، جس کو وہ بالکل نہیں روکتے،

چوہدری منظور کا مزید کہنا تھا کہ جب ہمارے لوگ اسمبلی میں حکومتی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہیں تو آج بھی ان کو بولنے نہی دیا جا رہا،بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ہم اے پی سی میں اسپیکر کے روئیے پر بات کرکے ان کے خلاف حتمی فیصلہ کریں گے، جس پر ہم آج بھی قائم ہیں، رانا ثنااللہ صاحب ہم آج بھی اس انتظار میں ہیں کہ مسلم لیگ ن اے پی سی کی تاریخ دے تاکہ اس حکومت کے عذاب سے عوام کو بچایا جاسکے،اگر اپوزیشن کی پارٹیوں نے آج بھی لیت و لعل سے کام لیا اور اپنا کردار ادا نہ کیا تو اس ملک کے لوگ کسی کا انتظار نہیں کریں گے، مہنگائی، بے روزگاری اور اس حکومت کی نااہلی نے عوام کی زندگیاں عذاب بنارکھی ہیں اور عذاب جتنا جلدی ٹل جائے اچھا ہے،

اپنا تبصرہ بھیجیں