سوشل میڈیا پر ’کلثوم کو انصاف دو‘ ٹاپ ٹرینڈ،

سوشل میڈیا پر ’کلثوم کو انصاف دو‘ ٹاپ ٹرینڈ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

اینکر پرسن اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ تین لاکھ کے عوض بِکنے والی کلثوم کی مادری زبان پشتو تھی اور اُسے جہاں قید رکھا گیا تھا وہاں پنجابی اور سرائیکی بولی جاتی تھی، میرے دلاسہ دینے پر اُس نے جب مٹھڑی سرائیکی زبان میں مجھے “میرا بھرا” (میرا بھائی) کہہ کر مخاطب کیا تو پتہ چلا کہ ظلم کی کوئی زبان، کوئی پہچان نہیں ہوتی۔

اقرار الحسن کا مزید کہنا تھا کہ ایک لمحے کو فرض بھی کر لیں کہ لڑکی کو پیسے دے کر اُس سے نکاح کرنا رسم ہے تو بھی کیا ہمیں اس رسم کے خلاف کھڑے نہیں ہونا چاہئے۔ اس کیس میں لڑکی کے خاندان کو نہیں دلالوں کو پیسے دئیے گئے تھے، سوچئے کوئی فرشتہ صفت بھی ہو تو خریدی ہوئی چیز سے کیسا سلوک کرتا ہو گا؟

اقرار الحسن کی جانب سے پروگرام اور ٹویٹ کے بعد ٹویٹر پر صارفین نے بڑی تعداد میں کلثوم کو انصاف دو کے لئے ٹویٹ کیں

ایک صارف نے لکھا کہ قیامت کے دن جب کلثوم ہم سے پوچھے گئ کہ انصاف کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائ اور اگر اس نے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا تو ہم جیسوں کا کیا ہو گا
انصاف دیجیے رحم کیجیے

ایک اور صارف نے لکھا کہ وہ مرد بھی نہیں جو عورت پر ظلم کرے اور عورت پر ہاتھ اٹھائے روز محشر ان سے اللہ پاک خود حساب کتاب لیں گے۔ آ خر کب تک ہمارے معاشرے میں کب تک ایک ماں بکے گی۔ اور کون اس ماں کو انصاف دے گا خدا رحم کرے پاکستان پر آمین

معروف اینکر پرسن اقرار الحسن نے لکھا کہ “میرا بھرا” میں ایتھے بہت تنگ ہو گیا، مجھے بہت ذلیل ہو گیا۔”
اپنی زبان تک بھول جانے والی یہ بے چاری عورت اپنے بچوں کی خاطر اور جھوٹے دلاسوں میں آ کر عدالت میں بیان دینے کے بعد واپس انہی ظالموں کے گھر ہے۔۔۔ کوئی اعلٰی عدالت ہی اس کی حفاظت یقینی بنا سکتی ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں اینکر اقرار الحسن کا مزید کہنا تھا کہ بِلک بِلک کرخود پر بیتنے والے مظالم بتانے والی یہ عورت واپس انہی ظالموں کے پاس ہے۔ اسے اس کے بچے دینے اور بھائی سے ملوانے کا جھانسا دے کر اس سے عدالت میں اپنی مرضی کا بیان دلوایا گیا۔ اربابِ اختیار نوٹس لیں تو اس کی زندگی بچ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں