اہم خبر:بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام کیو نہیں لیتے تھے؟خواجہ آصف نے سچ بتا دیا

اہم خبر:بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام کیو نہیں لیتے تھے؟خواجہ آصف نے سچ بتا دیا

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے پر ن لیگی رہنما و رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھاکلبوشن یادیو کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ھوتا تھے اب اسکی سہولت کاری کیلۓ قانون وضع ھو رہے ھیں.

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اورکشمیر مسلمانوں کے لۓمقتل بناھوا ھے اور ھم بھارت کے لۓ تجارت کھول رہے ھیں.یہ کیا اور کیوں ھو رہا ھے؟

خواجہ آصف کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ ان مظالم میں آپ برابر کے شریک ہیں،فی زمانہ پاکستان کی تباہی میں 3 اقسام کا نشہ دیکھا،سلیکٹڈ،کوکین،شراب و شباب کا نشہ،سلیکٹرز،حکومت اور اقتدار کا نشہ،اپوزیشن،ستو،کریلے گوشت،خوف کا نشہ

تاریخ دان لکھے گا کہ،دستیاب قیادت نے نواز شریف کے کارنامے مٹی میں ملا دئے

ایک اور صارف نے خواجہ آصف کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وہ وقت تھا جب مودی کو اپنے گھر ہی تم لوگ بلا لیتے تھے تب کشمیر کی فکر نہیں تھی تمھیں؟؟؟ پاکستانی قوم تم چوروں کی اصلیت جان چکی ہے ،کوئی شرم خواجے کوئی حیا خواجے

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے ایک بار پھر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے،جس کے لئے بھارت کو رسمی طور پر آگاہ کردیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بار سیکیورٹی اہلکار کے بغیر قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کی ہے۔ گذشتہ روز بھارتی سفارت کار کو کلبھوشن تک قونصلررسائی دی گئی تھی، جس میں بھارت کی بدنیتی سامنے آئی تھی، بھارتی سفارت کار کا کہنا ہم یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے،اس دوران کلبھوشن بھارتی سفارت کاروں کو پکارتا رہا اور وہ چلے گئے۔ کلبھوشن کہتا رہا مجھ سے بات کریں اور سفارت کارچلتے بنے۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں