وزیر اعظم نے حکومتی عہدیداروں کے اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے : وزیر خارجہ

وزیر اعظم نے حکومتی عہدیداروں کے اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے : وزیر خارجہ

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ميں پہلے بھی بہت سی شخصیات حکومتوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں لیکن اثاثوں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک دوہری شہریت کا تعلق ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قانون اور آئین اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟ قانوناً کوئی بھی دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ممبر نہیں بن سکتا لیکن کسی بھی دیگر عہدے کے حوالے سے ایسی کوئی قدغن قانوناً موجود نہیں۔ مفادات کے تصادم سے بچنے کیلئے جس قدر واضح پالیسی تحریک انصاف نے اپنائی ہے وہ آج تک کسی جماعت نے نہیں اپنائی تاکہ کوئی شخص اپنے منصب کو اپنی ذاتی یا معاشی بڑھوتری کیلئے بروئے کار نہ لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں جمہوری روایات میں عوام کے منتخب نمائندوں کی حثیت افضل ہوتی ہے کیونکہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے دوسری طرف امور سلطنت چلانے کیلئے آپ کو مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کی معاونت کر سکیں اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ آئین کی رو سے وزیراعظم پانچ ایسے مشیر تعینات کر سکتا ہے گذشتہ ادوار میں بھی مشیران رکھے گئے اور عمران خان نے بھی قانون کے مطابق مشیران /ٹیکنو کریٹس تعینات کیے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے حکومتی عہدیداروں کی دوہری شہریت اور اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے جو ماضی میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں