بلی کے رونے کے پیچھے کیا وجوہات ہوتی ہیں‌

بلی کے رونے کے پیچھے کیا وجوہات ہوتی ہیں‌

ہر معاشرے کے لوگوں میں‌ طرح ‌طرح ‌کے توہمات ہوتے ہیں‌ جنہیں ‌سن کر بھی ہنسی آتی ہے اور خآص کر جب کوئی مسلمان ایسی بات کرتا ہے تو مزید حیرانگی ہوتی ہے کہ جس مذہب کے اتنے واضح اور جامع احکامات ہیں اس کا پیرو بھی ایسے توہمات کا شکار ہو سکتا ہے . لیکن حیرانگی اس پر

کہ لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں‌ مثلا کہا جاتا ہے شام کے وقت پڑھنا اچھا نہیں ‌ہوتا ایسے ہی شام کے وقت گھر میں ‌جاڑو دینا برکت کو لے جاتا ہے .اگر صبح کوئی کوا منڈیر پر ہو اور شور کرے تو کہا جاتا ہے مہمان آرہے ہیں‌ایسے ہی متعدد وہم لوگوں‌نے پال رکھے ہیں‌. جن میں‌سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر کتا یا بلی رات کے وقت شور کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی مرنے والا ہےہمارے اسلامی معاشرے میں کچھ لوگوں نے غلط فہمیاں پھلائی ہوئی ہیں. ان عجیب و غریب باتوں کا تو نہ کوئی سر ہے اور نہ ہی پیر لیکن پھر بھی کافی مسلمان دوست ان چیزوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور مفت کا گناہ حاصل کرتے ہیں. محلے میں اگر کوئی بلّی روے تو بڑوں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ محلے میں کوئی شخص جلد فوت ہونے والا ہے یہ بات شاید اپنے بھی سنی ہو. مگر دراصل اس طرح کی باتوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ پوسٹ ضرور پڑھیں اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ضرور شئیر کریں. توہم پرستی کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ ان برائیوں میں سے ہے جس سے آزاد کرنے کے لئے اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیﷺ کو بھیجا تھا. پرانے زمانے میں لوگ اس طرح کے خیالات کو سینے لگائے ہوئے تھے. کہ اگر پرندے دائیں طرف جائیں تو یہ اچھا شگون ہے او راگر بائیں طرف جائیں تو یہ برا شگون ہے ، اگر شیشہ ٹوٹ جائے تو ہمارے لیے اچھا نہیں ، کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو یہ بھی برا شگون ہے. اگر خرگوش راستے سے گزر ے تو یہ خوشبختی کی علامت ہے. نمک بکھر جائے تو یہ بھی خطر ناک ہے. بلی کا رونا برا ہے کسی کو پیچھے سے آواز دینے کو بھی برا خیال کیا جاتا ہےیہ سب صرف وہم ہوتے ہیں‌ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‌ہوتا یہ ہمارا رہن سہن اور ہندووںً‌کے ساتھ ملتی جلتی معاشرت اور ٹی وی ڈراموں‌کہانیوں‌کا اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اچھا خاصا انسان اس کام میں ‌مبتلا ہو جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں