قرآن میں گہرے سمندروں کی موجوں کی کیفیت اور جدید سائنس

قرآن میں گہرے سمندروں کی موجوں کی کیفیت اور جدید سائنس

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ،

“یا (کافروں کے اعمال) گہرے سمندر میں اندھیروں کی طرح ہیں جسے ایک موج ڈھانپتی ہو، اس کے اوپر ایک اور موج ہو، اس کے اوپر بادل ہو، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے ہوں۔ جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو لگتا نہیں کہ اسے دیکھ سکے”۔

یہ آیت گہرے سمندر میں پائی جانے والی تاریکی کا ذکر کرتی ہے جہاں اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ آگے بڑھائے تو اسے دیکھ نہیں پاتا۔ سندر کی کم و بیش 200 میٹر کی گہرائی میں اور اس کے نیچے اندھیروں کا راج ہوتا ہے۔ اس گہرائی میں روشنی تقریباً نہیں پائی جاتی۔ دراصل 3 تا 30 فیصد شمسی روشنی سطح سمندر ہی سے منعکس ہوجاتی ہے۔ جو روشنی بحر سے نیچے اترتی بھی ہے، اس کے 200 میٹر کی گہرائی تک جاتے جاتے نوری طیف (Light spectrum) کے تقریباً ساتوں رنگ جذب ہوجاتے ہیں سوائے نیلے رنگ کے جس کی وجہ سے سمندر نیلا نظر آتا ہے اور 1000 میٹر کی گہرائی سے نیچے تو روشنی کا گزر ہوتا ہی نہیں۔

جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے وہ سمندر میں ٓبدوز یا خصوصی سامان کی مدد کے بغیر 40 میٹر سے زیادہ گہرائی میں غوطہ نہیں لگا سکتے۔ وہ سمندر کے زیادہ گہرے حصے، مثلاً 200 میٹر کی گہرائی  میں بیرونی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ سائنسدانوں نے حال ہی میں ایسے خصوصی سازو سامان اور آبدوزوں کے ذریعے سے اس تاریکی کو کھنگالا ہے جن کی مدد سے وہ سندروں کی گہرائی میں اترسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کے یہ الفاظ قابل غور ہیں،

“گہرے سمندر جسے ایک موج ڈھانپتی ہو، اس کے اوپر ایک اور موج ہو، اس کے اوپر بادل ہو۔”

آیت کے ان الفاظ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گہرے سمندروں کے پانیوں کو موجیں دھانپ لیتی ہیں اور ان موجوں کے اوپر دوسری موجیں ہوتی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دوسری قسم کی موجیں سطحی موجیں ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں کیونکہ آیت بتاتی ہے کہ دوسری قسم کی موجوں کے اوپر بادل ہوتے ہیں۔ لیکن پہلی قسم کی موجوں کی کیفیت کیا ہے؟۔

سائنسدانوں نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ اندرونی لہریں سمندر کے گہرے پانی کو ڈھانپے ہوتی ہیں کیونکہ گہرے پانیوں کی کثافت ان کے اوپر کے پانیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اندرونی موجیں سطحی موجوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ بھی سطحی موجوں کی مانند ٹوٹ سکتی ہیں۔ اندرونی لہروں کو انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی لیکن کسی مقام پر درجہ حرارت یا نمکیات کی تبدیلیوں کا مطالعہ کر کے ان کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں