وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کی ان خصوصی گاڑیوں کی خاص بات کیا؟ بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کی ان خصوصی گاڑیوں کی خاص بات کیا؟ بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے اثاثہ جات اور شہریت سے متعلق تفصیلات دو روز قبل منظر عام پر آئی تھیں تاہم سوشل میڈیا صارفین 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی اس معاملے کو بھولنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔بی بی سی کے لیے شہزاد ملک” “” “

اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔معاونین کی دہری شہریت سے لے کر پاکستان اور بیرون ملک جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور کاروباری شراکت داریوں تک فراہم کی گئی ہر تفصیل پر سیر حاصل گفتگو کی جا رہی ہے۔ان سرکاری شخصیات میں سے چند کے زیر استعمال لگژری گاڑیاں بھی بہت سے سوشل میڈیا صارفین کا دل لبھا رہی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند صارفین ان مہنگی گاڑیوں کی بتائی گئی قیمتیں سن کر سکتے میں ہیں تو بہت سے ایسے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ معاونین اور مشیران کی جانب سے ان کی گاڑیوں کی بتائی گئی قیمتیں مارکیٹ ریٹ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتیں۔مثال کے طور پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کی ’ٹیوٹا زیڈ ایکس‘ کو ہی لے لیجیے۔ ان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیل کے مطابق سنہ 2016 ماڈل کی اس لگژری گاڑی کی قیمت تیس لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔عاصم باجوہ کی جانب سے یہ قیمت ظاہر کرنے کی دیر تھی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گاڑیوں کی منڈی سج گئی۔ کسی نے انھیں اس گاڑی کے ڈیڑھ کروڑ آفر کیے تو کسی نے ایک کروڑ۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو 50 لاکھ آفر کر رہے مگر ساتھ لکھ رہے ہیں کہ اس ماڈل کے ’یہ بھی کم ہیں۔‘اسی طرح معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے ہونڈا وی ٹی آئی ماڈل 2015 کی قیمت 22 لاکھ جبکہ معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی، سید ذوالفقار عباس بخاری نے پاکستان میں اپنے زیر استعمال ٹیوٹا لینڈ کروزر 2012 کی قیمت 20 کروڑ بتائی ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گِل کے اثاثوں کے مطابق ان کے پاس بینک لیز پر لی گئی بی ایم ڈبلیو ہے،

جس کی قیمت 43 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے،اور اس کے علاوہ ان کے پاس کیمری کار ہے جس کی مالیت 22 لاکھ سے زیادہ ہے۔بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر اثاثوں کی تفصیل فراہم کرتے وقت کسی اثاثے کی مالیت کا تعین کیسے لگایا جاتا ہے اور اگر غلط تفصیلات فراہم کی جائیں تو سزا کس نوعیت کی ہوتی ہے۔انکم ٹیکس کے مقدمات کی پیروی کرنے والے سینیئر وکیل حافظ ادریس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی ٹرانسفر کے وقت اس کی جو قیمت بشمول ٹیکس و دیگر اخراجات آتی ہے وہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں لکھی جاتی ہے۔’سادہ زبان میں آپ کہہ لیجیے کہ گاڑی خریدتے وقت اس کی جو قیمت طے ہو کر کاغذات میں لکھی گئی ہو گی وہ ہی اس کی مالیت ہو گی اور ٹیکس معاملات اور کاغذات میں وہی قیمت درج کی جائے گی۔ یہ قیمت کسی بھی اثاثے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اگر ویلتھ سٹیٹمنٹ میں کسی بھی اثاثے کی مالیت درست نہ لکھی جائے تو یہ قابل سزا جرم ہے اور اگر ایسا ثابت ہو جائے تو اثاثے کی اصل قیمت اور بتائی گئی قیمت میں موجود فرق پر ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔لگژری گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے ایک کار ڈیلر تنویر عباسی کہتے ہیں کہ بعض اوقات اہم شخصیات بیرون ممالک سے مہنگی گاڑیاں منگواتی ہیں اور ان پر کسٹم سمیت بہت سے دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستانی مارکیٹ میں ’ٹیوٹا زیڈ ایکس‘ کی سنہ 2010 ماڈل کی قیمیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔توقیر عباسی کے مطابق اس ماڈل میں اگر ٹاپ آف دی لائن نہ بھی ہو تو بھی اس ماڈل کی قمیت دو کروڑ روپے کے قریب ہوتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ عام صارفین کو بیرون ملک سے گاڑی پاکستان لانے پر بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور وکیل ساجد ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انکم ٹیکس کے قانون میں جرمانے کے علاوہ اور کوئی سزا نہیں ہے۔جہاں حزب اختلاف کے بہت سے سیاستدان اس معاملے کو لے کر حکومت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں وہیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے قانون میں مشیروں کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن وزیراعظم نے ایسا اقدام کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو ہو رہا ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق وفاقی کابینہ کے اس اجلاس میں معاونیں خصوصی اور مشیران کی دوہری شہریت کا معاملہ بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں