ڈاکٹر عبدالقدیر کی نقل وحرکت سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نقل وحرکت سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی نقل و حرکت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

وکیل توفیق آصف نے عدالت میں کہا کہ ملاقات کے لیے درخواست پہلے دی تھی، ملاقات کے لیے کال آج آئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عبدالقدیر خان سے متعلقہ افسران کے ساتھ میری 2 مرتبہ ملاقات ہوئی، ڈاکٹر صاحب کے کچھ تحفظات دور کر دیے، باقی پر پیشرفت جاری ہے،یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے،دوستانہ ماحول میں ڈاکٹر عبدالقدیر سے گفتگو ہوئی،

ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل نے کہا کہ 24جون کو موکل سے ملنے کی درخواست دی، کل ملنے کیلئے کہا گیا،جسٹس قاضی امین نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب تمام تنازعات سے بالاتر قابل عزت شہری ہیں،

واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت سمیت ان کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد کے لیے 23 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔ ایڈووکیٹ زبیر افضل رانا کے توسط سے عدالت عظمی میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق، معقول پابندیوں کی آڑ میں کسی کی پسند یا ناپسند پر کم  یا سلب نہیں کیے جاسکتے۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 ستمبر 2019 کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی اسی طرح کی ایک درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے ریاست کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپیل میں کہا کہ میری 84 سال عمر ہے اور اکثر بیمار رہتا ہوں، میرے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ کے آر ایل کے کسی سائنسدان کے ساتھ نہیں کیا گیا، قانون کے مطابق ہر شہری کو آزادانہ نقل وحرکت ،اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔

ایٹمی سائنس دان نے کہا ہے کہ مجھے کینسر کے مرض کی تشخیص ہو چکی ہے ایسی حالت میں پابندیاں جان لیوا ہو سکتی ہیں، حکومتی ادارے گمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ میری جان کو خطرہ ہے ، ایک عمر رسیدہ شخص کو اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں کیا خطرہ پیش آسکتا ہے، میری سکیورٹی کا یہ مطلب ہرگز نہیں نقل وحرکت پر پابندی عائد کر دی جائے۔

قبل ازیں ماہ جولائی میں پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حکومت کے نام خط لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چند غیرقانونی اور بلاجواز رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ حسب معمول حکومت کی طرف سے جھوٹ کا پلندہ پیش کیا جا رہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مجھے کیا خطرہ پیش آ سکتا ہے؟ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت دنیا کے اخبارات میں میری تصاویر شائع ہو رہی تھیں، میرے فوٹو شائع کیے جا رہے تھے، فلمیں بنائی جا رہی تھیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ میں اس وقت انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، مصر، سوڈان، نائجیریا، مالی (ٹمبکٹو)، تھائی لینڈ، جاپان، روس، ازبکستان، قازقستان، مراکو، کینیا، شام وغیرہ کے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت ان کو میری جان کی فکر نہ تھی اور نہ ہی کسی نے مجھے مارا۔ نہ ہندوستانیوں نے، نہ امریکنوں نے اور نہ ہی اسرائیلیوں نے، اس وقت میرے ساتھ میرے رفقائے کار ہوتے تھے نہ گارڈ، نہ بندوقیں، نہ فوجی، نہ رینجرز۔ ایٹمی دھماکوں کے 6 برس بعد تک میں دنیا میں سفر کرتا رہا، اس وقت سب کو علم تھا کہ میں کون ہوں.

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ اب جبکہ میں 83 سال سے زیادہ عمررسیدہ ہو چکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے، ملک میں ہی ہوں اور باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے تو اس دروغ گوئی سے مجھے پریشان کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ان کو اپنی بدمعاشیوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے مگر میں محب وطن پاکستانی ہوں، میں نے اور میری بیوی بچوں نے ملک کی خاطر خاندانی زندگی قربان کر دی ہے۔ میں جان دے دوں گا ملک سے کبھی غداری نہ کروں گا۔ میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں