بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپرسیل کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپرسیل کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

شہر قائد کراچی میں ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی کا مبینہ ملزم جنیدگرفتارکر لیا

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم جنید کو بہادرآباد میں دھوراجی سے گرفتار کیا گیا، ملزم حوالہ ہنڈی کے عالمی نیٹ ورک کا کارندہ اور منی ایکسچینج کمپنی کا مینجر ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کی جا رہی تھیں،رقم دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور ہتھیاروں کی خریداری میں استعمال ہوتی تھی،

ایف آئی اے کے مطابق ملزم جنید کے دیگر ساتھی دبئی میں حوالہ ہنڈی کاکام کرتے ہیں،بھارت سے محمود صدیقی گروپ بذریعہ ای میل ر ا ملزمان کو ٹاسک دیتا ہے،

ایف آئی اے نے ملزم جنید سے لیپ ٹاپ ،یو ایس بی اور دیگر سامان برآمد کر لیا

واضح رہے کہ 15 جولائی کو ایف آئی اے حکام نے کامیاب کروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سلیپر سیل کا اہم رکن ظفر گرفتار کر لیا گیا.ملزم ظفر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے،

گرفتار ملزم نے بھارت میں چودہ ماہ دہشت گردی کی ٹریننگ لی.ملزم ظفر کو دہلی میں محمود صدیقی گروپ نے عسکری تربیت دلوائی، ملزم ظفر کا تعلق ایم کیوایم لندن سے ہے،گرفتار ملزم بم بنانے اور جدید ہتھیار چلانے کا ماہر ہے .ملزم ظفر فائر بریگیڈ میں سرکاری ملازمت بھی کرتا تھا،

رواں برس ماہ مئی میں کراچی سے را سلیپر سیل کا ایک اور اہم رکن گرفتار کرلیا گیا، ملزم کراچی ایئر پورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا۔

ملزم کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا، ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے بھارت بھی جا چکا ہے، ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،

ایف آئی اے کے مطابق اے ایس آئی مصور نقوی را سلیپرسیل کا اہم رکن ہے۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا
ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا، محمود صدیقی کی ہدایت پر ملزم کو رقم فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے ملزم ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی آمدورفت میں سہولت کاری بھی کرتا تھا

قبل ازیں ماہ مئی میں ہی ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،

ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.

ملزم آصف صدیقی اسلحے کی ترسیل میں بھی ملوث ہے، ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے،

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے

پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے

قبل ازیں  یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی

اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا

کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،

چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں