چند ایجادات جن کا جنم حادثاتی طور پر ہوا

چند ایجادات جن کا جنم حادثاتی طور پر ہوا

1) مائکروویو اوون

سنہ 1945 میں انجینیئر پرسی سپنسر Percy Spencer  رے تھیون Raytheon کمپنی کے لیے ایسا آلہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو تابکار شعاعوں کو بہتر طور پر منعکس کر سکے۔ وہ ایک ریڈار سیٹ  کو بجلی مہیا کرنے والی نئی ویکیوم ٹیوب پر کام کر رہے تھے جسے میگنیٹرون magnetron  کہتے ہیں۔ اس آلے پر کام کے دوران پرسی نے محسوس کیا کہ ان کی جیب میں موجود چاکلیٹ پگھل گئی ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ ایسا مائیکرو ویوز کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس  نے اس پر مزید تجربات کیے۔ پہلے مکئی کے دانے پر تجربہ کیا۔ جب مکئی کے دانے بھن گئے تو مزید غذاؤں پر تجربات شروع کیے۔ ان نتائج کو سامنے رکھ کر مائیکرو ویوز کو ایک محفوظ برتن میں بند کرنے کا سوچا گیا ۔ یوں اتفاقیہ طور پر وہ دریافت ہاتھ لگ گئی جسے آج  دنیا بھر میں  مائیکرو ویو  اوون کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔

2) ٹائر

1839ء کا واقعہ ہے  ایک روز چارلیس  اپنی لیبارٹری میں  ربڑ، سلفر اور سیسے کے  آمیزے سے بھری ٹیسٹ ٹیوبز پر  کام کر رہا تھا   کہ  چارلس  کے ہاتھ سے اتفاقاً پھسل کر وہ ٹیوبس جلتے ہوئے فائر اسٹوو پرالٹ گئیں۔    مگر آمیزہ پگھلنے کے بجائے ٹھوس شے بن گیا۔ اس کا رنگ کالا ہو چکا تھا لیکن اس کی بیرونی سطح سخت اور اندرونی سطح نرم رہی۔ یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ولکنائزڈ ربر  vulcanized rubber  ایجاد ہوا۔

3) کششِ ثقل

یہ واقعہ 1666ء  کا ہے ، ایک روز نیوٹن باغ میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک سر پر پکا ہوا سیب گرا۔ ذرا دیر کو نیوٹن کا دماغ ہل گیا اور اس نے سیب ہاتھ میں لے کر سوچنا شروع کیا کہ ہر شے اوپر سے نیچے ہی کیوں آتی ہے ؟ یوں کششِ ثقل کا اصول اتفاقاً انسان کے علم میں آیا۔  طبعیاتی سائنس کا رُخ موڑنے والا یہ سیب  اگر نیوٹن کے سر پر نہ گراہوتا  یا  اگر اس دن نیوٹن سوچنے کے بجائے وہ سیب کھا جاتا تو کششِ ثقل جانے کب دریافت ہوتی؟ اور  آج سائنس کی شکل کچھ اور ہوتی۔  درحقیقت اس دنیا کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھنے کے لیے سیب گرا اور اس نے  دنیا کو دیکھنے کے نظریہ کو ایک نئی سمت پر پہنچا دیا۔

4) ماچس

یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔ جان واکر John Walker چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو اس مادہ میں ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً انسانوں کو ماچس مل گئی۔

5) ایک نئی زبان

امریکا  دریافت ہونے کے بعد سولہویں اور سترہویں  صدی عیسوی میں  بڑی تعداد میں اسپینی ، پرتگالی اور انگلستانی بحری بیڑوں نے امریکا  میں زمینوں پر قبضہ کیے اور یہاں کے مقامی ریڈ انڈین باشندوں کو غلام بنایا۔ انہی ریڈ انڈین اقوام میں امریکی ریاست جارجیا کی  ایک قوم چیروکی Cherokee بھی تھی۔ چیروکی لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے ۔ ان کی زبان صرف بولی پر مشتمل تھی۔

چیروکی قبیلے  کے ایک لڑکے  سیقویاہ Sequoyah کو  ایک گوری چمڑی والا اپنے ساتھ غلام بنا کر شہر لے آیا۔   سیقویاہ  چونکہ سنار کا کام جانتا تھا اس لیے  سرکاری افسروں کے پاس اس کا آنا جانا رہا۔   سیقویاہ ان پڑھ تھا، لیکن وہ سرکاری کارندوں  کے پھینکے ہوئے بے کار کاغذوں کو جمع کرکے ان   پر لکھی آڑھی ٹیڑھی لکیروں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ پھر اس نے ہر حروف کو خود سے اپنی بولی کی ایک آواز کا نام دینا شروع کیا ۔  بالآخر 1809ء میں اس نے اپنا رسم الخط بنالیا۔ جب سیقویاہ واپس اپنے قبیلے چیروکی پہنچا تو اس نے وہاں کے کئی بچوں  بڑوں کو یہ  حروف تہجی سکھائی اور یوں چیروکی قبیلے کو ایک زبان مل گئی۔

چیروکی قبیلہ نے 1820ءمیں اپنی زبان کو لکھنے کی ابتداءکی انہوں نے اپنے بچوں کو  پڑھا یا اور اپنا ایک اخبار بھی چھاپنا شروع کیا۔ چیروکی دوسرے ریڈانڈین قبائل کے برعکس مہذب  ہوتے گئے۔  چیروکی زبان آج بھی محدود پیمانے پر لکھی اور پڑھی جاتی ہے ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مشہور سرچ انجن گوگل میں بھی چیروکی زبان استعمال کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں