سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو، ’قتل کی دھمکی‘

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو، ’قتل کی دھمکی‘ کیس کی سماعت

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی کی ویڈیو سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
سپریم کورٹ میں عدلیہ مخالف ویڈیو سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی.

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،مرتکب توہین عدالت آغا افتخار الدین نے صحت جرم سے انکار کردیا،آغا افتخار الدین نے کہا کہ کیس میں اپنا دفاع کروں گا

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرتکب توہین عدالت اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا،اس کو توہین عدالت کا چارج پڑھ کر سنایا گیا،اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ تمام ثبوت اور گواہ پیش کریں گے،ایف آئی اے کی پیش کردہ رپورٹ نامکمل ہے ،ملزم کے وکیل کو چارج اور ثبوت کی کاپیاں فراہم کی جائیں،

قبل ازیں 2 ج2لائی کو سپریم کورٹ میں آغا افتخارالدین مرزاویڈیو ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ فائل ہوچکی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آغا افتخارالدین مرزاکی طرف سےکون پیش ہورہاہے؟

وکیل نے کہا کہ آغا افتخارالدین مرزانےغیرمشروط معافی نامہ جمع کرادیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ معافی نامہ ہمارے سامنے نہیں ہے،جوالفاظ استعمال کیے گئے کیا ایسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے تھے؟ایسے مقدمے میں معافی کیسے دیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ افتحار الدین مرزا کی ویڈیو کسی بچے کی بنی ہوئی نہیں،افتحار الدین مرزا کا اپنا ویڈیو چینل ہے،افتحار الدین مرزا اپنے چینل سے پیسے کماتے ہیں،ایسی زبان تو گلیوں میں بھی استعمال نہیں ہوتی،اسلامی ا سکالر نے ایسی ویڈیو بنا کر دنیا کےلیے پبلک کر دی،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین مرزا کو پیش کریں،افتخار الدین مرزا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ دھمکیوں پر مقدمہ درج کروانے تھانے پہنچ گئیں اور اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دے دی ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے تھانے میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ میرے خاوند کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں, ایک شخص میرے میاں کو ایک ویڈیو میں قتل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے,جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے تھانہ سیکریٹریٹ میں شکایت درج کرا دی,

درخواست میں کہا گیا کہ پولیس جمع کرائے گئے مواد کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرے,سپریم کورٹ کے جج کو قتل کی دھمکیاں دینا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے, پولیس ایکشن لے, جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے درخواست ایس ایچ او تھانہ سیکٹریٹ اسلام آباد کے پاس خود جمع کرائی،

سرینا عیسی نے ویڈیو ثبوت ایس ایچ او کے حوالے کیا اور جمع کرائے گئے مواد کی بنا پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی. درخواست مین کہا گیا کہ جس ویڈیو میں دھمکی دی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ جو آدمی بھی اسٹیبلشمنٹ میں پکڑا جائے چاہے فائز عیسیٰ ہو سامنے فایرنگ سکواڈ کے کھڑا کر دیا جائے

پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا تھا.ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ نے مرزا افتخارالدین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

مقدمہ جسٹس فائزعیسیٰ کی اہلیہ سریناعیسیٰ کی مدعیت میں درج کیاگیا،مقدمےمیں انسداد دہشت گردی اورالیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعات لگائی گئیں

بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے واقعہ کا از خود نوٹس لیا تھا ،ملزم پر گزشتہ سماعت پر فرد جرم عائد کی گئی تھی،

اپنا تبصرہ بھیجیں