پاکستانیوں کی " ٹک ٹاک " سے لاکھوں کی کمائی، سچ یا جھوٹ ؟

پاکستانیوں کی ” ٹک ٹاک ” سے لاکھوں کی کمائی، سچ یا جھوٹ ؟

سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نوجوانوں کی مقبول ترین ایپ ہے جس نے مقبولیت میں انسٹاگرام اور فیس بک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے یہاں تک کہ پاکستانی نوجوان دوسری سوشل میڈیا ویب سائٹس کی بجائے زیادہ تر ٹک ٹاک پر نظر آتے ہیں اور آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ نوجوان ٹک ٹاک پر لاکھوں کما رہے ہیں۔

ٹک ٹاک کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے احسن خان نے اپنے شو میں پاکستان کے مشہور ٹک ٹاک سٹارز کو بلایا اور ان سے ٹک ٹاک اوران کی آمدنی کے بارے میں بھی سوال جواب کئے-

احسن خان کے شو میں حال ہی میں مجتبی لاکھانی اور ایمن زمان جن کے 2.6 ملین فالوورز ہیں اور ٹک ٹاک کی مشہور بھائی بہن کی جوڑی شیری اور مشال ملک اور پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار عاصم اظہر کے گانے تُم تُم میں ڈیبیو کر نے والی اسٹار اریکا حق جن کے ٹک ٹاک 5.4 ملین فالوورز ہیں شریک ہوئیں-

شو کے دوران احسن خان نے ان تمام ٹک ٹاک اسٹار سے ان کی آمدنی پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ان کی آمدنی کا انحصار ان کی ویڈیوز کی تعداد اسپانسرز ویڈیوز اور کمپنی وغیرہ پر ہوتا ہے۔

ٹک ٹاک سٹار مجتبیٰ لاکھانی اور ایمن زمان نے بتایا کہ انہوں نے ایک موبائل فون کمپنی کی کیمپین کے لئے ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی جس کے انہیں 1 لاکھ 60 ہزار روپےکی آمدنی ہوئی تھی۔

ٹک ٹاک پر بھائی بہن کی مشہور جوڑی شیری اور مشال نے بتایا کہ ان دونوں کی ماہانہ آمدنی 4 لاکھ کے قریب ہوجاتی ہے جبکہ اریکا حق نے بتایا کہ وہ ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر ماہانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک کمالیتی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک پر ٹک ٹاک اسٹارزکی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے کئی واقعات کے باعث حکومت ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے جبکہ فحش مواد پرحکومت نے ٹک ٹاک کو وارننگ جاری کر دی ہے . فحش اور غیر اخلاقی مواد کی وجہ سے ٹک ٹاک پر بھی پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے . پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور رکن ایوان سیمابیہ طاہر نے پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے قرار داد جمع کرادی ہے –

سیمابیہ طاہر کی جانب سے جمع کرائی جانے والی قرار داد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے مذاہب کا مذاق بنایا جارہا ہے اور موبائل ایپلیکیشن کی وجہ سے بے حیائی بھی پھیل رہی ہے‘۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ ’ٹک ٹاک پر بے سروپا گفتگو کر کے نئی نسل کو تباہی کے دہانے کی طرف دھکیلا جارہا ہے، پلیٹ فارم پر شیئر ہونے والی ویڈیوز کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی گرفت ہوتی ہے-

سیمابیہ طاہر نے لکھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز کو بلیک میلنگ کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اب تک کئی لوگوں نے خودکشی کر کے اپنی قیمتی جانوں کو ختم کیا۔ایوان میں جمع کرائی گئی قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ’پنجاب اسمبلی کا ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو ز پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو بچایا جاسکے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں