کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے؟ ڈانس کےالزام میں نوکری سے فارغ کی جانے والی خاتون پولیس کانسٹیبل کی اصل حقیقت جان کر افسران بھی غصے میں آگئے

کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے؟ ڈانس کےالزام میں نوکری سے فارغ کی جانے والی خاتون پولیس کانسٹیبل کی اصل حقیقت جان کر افسران بھی غصے میں آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں لیڈی کانسٹیبل کی ٹاک ٹاک پر ویڈیو وائرل ہونے پر اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ پنجاب پولیس کی لیڈی کانسٹیبل وفا توقیر کا مشغلہ گانوں پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانا تھا لیکن کانسٹیبل کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو افسران غصے میں آ گئے جس کے بعد” “” “

ڈی ایس پی عہدے کے افسر نے انکوائری کی اور الزام درست ثابت ہونے پر فوری خاتو کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ برطرفی کے بعد لیڈی کانستیبل وفا توقیر بھی غصے میں آگئیں اور الزام لگایا کہ محکمے نے ان پر ظلم کا پہاڑ توڑا ہے، ویڈیو زبنانے کا شوق ضرور ہے لیکن انہیں صرف اپنے موبائل میں رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیوز 8 ماہ قبل ٹریننگ کے دنوں میں بنائی تھیں، کس نے لیک کیں یا کرائیں! معلوم نہیں۔دوسری جانب دو خواتین نے کانسٹیبل یوسف کی وردی پہن کر ویڈیوز بنائیں اور وائرل کردیں۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے پولیس کی وردی میں ملبوس تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے منع کیا گیا ہے، مگر ان خواتین کی پولیس وردی میں ویڈیوز کے بارے میں پولیس کی جانب سے نا تو کوئی موقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی تاحال کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے پولیس اپنے پیٹی بھائی کے خلاف کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بہت سے پولیس اہلکاروں کی وردی میں ڈانس کرتے ہوئے ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جس کے بعد اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ خیال رہے ٹک ٹاک پر بنائی جانے والی چند ویڈیوز پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا ہے کہ ان میں سماجی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھاجاتا اور فحاشی و عریانی پھیلائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں