مسلم لیگ (ن) کا وہ وزیر جس کے کہنے پر پورے ضلع میں من پسند ایس ایچ او لگائے گئے

مسلم لیگ (ن) کا وہ وزیر جس کے کہنے پر پورے ضلع میں من پسند ایس ایچ او لگائے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے ملک میں ظلم اور ناانصافی کے پِسے ہوئے افتاد گانِ خاک کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ پولیس افسران دفتروں میں بیٹھے رہنے کے بجائے اُنکے مسائل اور مصا ئب جاننے کے لیے ان کے پا س جائیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر تھانے کی سطح پر کھلی کچہریاں لگائیں” “” “

مگر وہ ٹاؤٹوں کا اجتماع نہیں ہو نا چا ہیے،اسکوآپ خود کنڈکٹ کریں اور مقامی SHO کے منتخب کردہ اسٹیج سیکریٹری کے حوالے نہ کریں ۔سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ایسے اجتماع میں سب سے پہلے ڈی پی او یا ڈی آئی جی خود خطاب کرے اور اپنی پالیسی اور ترجیحات بتائے اور پھر عام لوگوں کی حوصلہ افزائی کر ے کہ وہ کھل کر بات کریں۔ اے ایس پی سے لے کر ڈی آئی جی تک میری کھلی کچہریوں میں ہزاروں لوگ آیا کرتے تھے اور میں کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر ان کی باتیں اور شکایتیں سناکرتا تھا اور پھر ان کا ازالہ کیا جاتا تھا، ہم نے گوجرانوالہ اور شیخوپورہ ڈویژن میں تھانہ کی سطح پر کھلی کچہریاں منعقد کرنے کے علاوہ جمعہ کچہری کا اہتمام بھی کیا تھا۔ہر جمعے کو تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز، ایس ڈی پی اوز اور ایس پی صاحبان اپنے علاقے کی کسی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد وہیں بیٹھ کر عوام کے مسا ئل سنا کرتے تھے۔ سائل یا فریقین بھی مسجد کے احترام کی وجہ سے جھوٹ کم بولتے تھے۔ ان کی جائز شکایات کے ازالے کے لیے وہیں احکامات جاری ہوتے اور ان پر فوری عملدرآمد ہوتا تھا۔ یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ۔پولیس کے ضلعی سربراہ کا سب سے بڑا ٹیسٹ ایس ایچ او زکی تعیناتی ہے ۔ اگر وہ کسی کے دباؤ پر یا کسی کی خوشنودی کے لیے کرپٹ اور بدنام ایس ایچ اوز لگاتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر جتنی چاہے پبلسٹی کرتا رہے،

عوام اسکو کبھی اچھا افسر نہیں سمجھیں گے اور اُس پر کبھی اعتماد نہیں کریں گے۔ضلعی سربراہان کو چاہیے کہ وہ پوری کوشش کر کے دیانتدار افسر ڈھونڈیں اور انھیں تھانوں کا انچارج لگائیں ۔ اگروہ کرپٹ افسروں کو تھانوں کا انچارج لگائیں گے یا حکومتی پارٹی کے جیتے یا ہارے ہوئے سیاستدانوں کے کہنے پرSHO لگائیں گے (جوان کے کہنے پر ملزموں سے نرمی اور بے گناہوں کو تنگ کریں گے) توڈی پی اوز کی تمام تر ڈرامے بازیوں کے باوجود عوام انھیں دل سے بُرا سمجھیں گے۔چند سال پہلے ایک PSP افسر گوجرانوالہ میں تعینّا ت ہوا تو اس نے مسلم لیگ( ن) کے با اثر ایم پی اے کے کہنے پر کئی بدنام SHO تعینات کردیے۔ ایک ایس ایچ او تو اسقدر بدنام تھا کہ لوگ اُسے کنجر کے نام سے یاد کر تے تھے ۔ متعلقہ پولیس افسر (ن )لیگ کے با اثر ممبروں کی خوشامد کرکے طویل عرصے تک یہیں تعینات رہا اور اس دوران پی ٹی آئی کے بے گناہ ورکروں کی پکڑ دھکڑبھی کرتارہا ، پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ان سے جاملا۔ آجکل مارکیٹ میں ایسے افسروں کی بہتات اور باضمیر افسروں کا قحط ہے۔ لیکن یاد رکھیں ایسے افسر پوسٹنگ تو لے سکتے ہیں مگر عوام کا اعتماد یا عزتّ حاصل نہیں کر سکتے۔پھر پولیس کو غیر جانبدار بنانے کے دعوے کرنے والوں کے دور میں اسی جگہ ایک ایسا نرالا آرپی او آلگا جو حکومتی پارٹی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو اپنی سرکاری گاڑی میں ساتھ بٹھا کر پھراتا، انھیں اپنے گھر بلا کر کھانے کھلاتااوراُن کے ڈیروں پر جاکر کچہریاں لگاتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے ادارے کو عوام کی نظروں سے گر اکر چلتا بنا۔اسی طرح اگر صوبے کا آئی جی، کسی ضمنی الیکشن کے قریب پولیس کو غیر جانبدار رکھنے کے بجائے متعلقہ تحصیل میں حکومتی پارٹی کے پسندیدہ افسر تعیّنات کرتا ہے تو وہ اپنے یونیفارم کا تقّدس مجروح کرتا ہے۔اور اس کی اس جانبدارانہ حرکت سے پولیس کا پورا ادارہ بدنام ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں