پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ختم : زیر تعمیر دیامیر بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ اعداد وشمار آپ کو حیران کر ڈالیں گے

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ختم : زیر تعمیر دیامیر بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ اعداد وشمار آپ کو حیران کر ڈالیں گے

دیامر بھاشا ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان ملکی مفاد کے لئے ہر مشکل فیصلہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں جن معاملات میں تاخیر کی جاتی رہی اب انہیں فوری توجہ حاصل ہو رہی ہے۔موجودہ دور میں تو ایسے منصوبے بھی شروع کئے جا چکے ہیں” “” “

نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جن کی طرف ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔ جیسا کہ ماحولیات کی بہتری۔ اسی مقصد کیلئے ملک میں 10 ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جہاں تک دیا میر بھاشا ڈیم کے محل وقوع اور اس کی اہمیت کی بات ہے تو یہ ڈیم گلگت بلتستان کے علاقے دیامیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے بھاشا میں تعمیر کیا جانا ہے۔واپڈاکے مطابق یہ ڈیم 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا اور اس میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے 12 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سیراب ہو گی۔ اس کی تعمیر پر آنے والی لاگت کا تخمینہ لگ بھگ ساڑھے 14 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ پاکستانی فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور چین کی حکومتی کمپنی پاورچائنا کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکڑ فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود رہے گا۔اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان

کا چھ لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گی اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہو گا جبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹریکچر کی تعمیر ہو گی۔واپڈا کی رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ 22 ہزار لگایا گیا ہے متاثر ہوں گے جبکہ 500 ایکڑ زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ زیرِ آب آئے گا۔ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ لوگوںکی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیراتی بنیاد رکھنے کے بعد اب یقین ہو چلا ہے کہ ہم ملک میں بجلی کی رسد و طلب کو عنقریب حل ہوتا دیکھ پائیں گے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جو ماضی میں ایک عفریت سے کم نہیں تھا‘ اب دم توڑ رہا ہے۔ دیا میربھاشا ڈیم کی تعمیر سے ہم صرف بجلی کی پیداوار میں ہی خودکفیل نہیں ہوں گے بلکہ یہ اس بات کا بھی بین ثبوت ہو گا کہ قوموں کو جب بہترین لیڈر میسر آتے ہیں تو پہاڑ جیسے مسائل جو بظاہر ناممکن نظر آتے ہیں‘ وہ حل ہونے لگتے ہیں۔ اس ڈیم کی تعمیر سے لوگوں کو فوری طور پر روز گار کے مواقع بھی حاصل ہوں ۔وزیر اعظم عمران کے ہاتھوں ڈیم کی تعمیر کاا ٓغاز ہونے کے بعد ن لیگ نے ڈھندورا مچا دیا کہ اس کی زمین تو انہوں نے خریدی تھی مگر ن لیگ کو یہ یاد نہیں کہ اس کی حکومت نے ڈیم کی تعمیر کو پندرہ سال کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بلا شبہ یہ ڈیم سستی بجلی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں