پوچھنا یہ تھا کہ آپ کے منہ پر ٹیپ باندھی تھی اور آپکے ہاتھ بھی بندھے تھے تو پانی کیسے مانگا ؟ سینئر صحافی جنید سلیم نے مطیع اللہ جان کی طبیعت صاف کردی

پوچھنا یہ تھا کہ آپ کے منہ پر ٹیپ باندھی تھی اور آپکے ہاتھ بھی بندھے تھے تو پانی کیسے مانگا ؟ سینئر صحافی جنید سلیم نے مطیع اللہ جان کی طبیعت صاف کردی

سینئر صحافی جنید سلیم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا اور ساتھ ہی معروف صحافی مطیع للہ جان کی ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ کہہ رہے ہے کہ “میرے منہ پر ٹیپ تھی میرے چہرے پر نقاب اور جب کار چلنے لگی” “” “

تو میں نے ان سے پانی کا گلاس مانگا۔۔۔” اس ہر جنید سلیم نے طنریہ انداز میں لکھا کہ” پوچھنا یہ تھا کہ جب آپ کے منہ پر ٹیپ باندھی ہوئی تھی اور آپکے ہاتھ بھی بندھے تھے تو پانی کیسے مانگا “اے مذاق ہوریا” ۔۔ سینئر صحافی جنید سلیم نے مطیع اللہ جان کی طبیعت صاف کردی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک اور پیغام میں کہا کہ “کہیں یہ “پے کے” فلم کی عامر خان والی ٹیپ تو نہیں جس نے اسکو ننگا ہونے سے بچایا تھا مگر یہاں تو موصوف پورے “جیرو بٹا لل” ہوگئے”۔ ایک شاہد چیخ نامی صارف نے اسکا رپلائے کرتے ہوئے لکھا کہ” اپنے چہتے کپتان سے تفصیل معلوم کرلیں۔۔جنید بھائ۔۔۔ویسے آپ کے معصومانہ سوال کا جواب یہ ھے کہ۔۔۔گونگا آدمی ۔۔پانی کیسے مانگتا ھے۔۔کبھی زندگی میں مشاھدہ کیا آپ نے ؟”۔ علی رضا نامی صارف نے لکھا کہ ” گونگا بھی پانی مانگے تو ہاتھ سے اشارہ کرے گا یہ تو گونگا اندھا ٹنڈا سب کچھ تھا کہ ہاتھ بندھے تھے وہ بھی پیچھے، آنکھوں پہ پٹی منہ پہ ٹیپ… لیکن پانی مانگتا رہا… کمال کرتے ہیں پانڈے جی. موبائل پھینکنے کا ٹائم بھی مل گی”۔ شہاب مہالدین نے لکھا کہ ” ارے ارے, ارے! یہ کیا کہہ رہے ہو آپکے وکیل @HamidMirPAKتو کہہ رہےتھے کہ ISI نے مطیع اللہ جان کواغوا کیا ہے مگر انکی بات سنیں تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اغواکار انہیں زرک اللہ جان سمجھ کر اٹھا لائے, ہیں یہ ISI کو اتنا پتہ نہیں کہ وہ کس کو اٹھا رہے ہیں, یہ ISIوالے بھی نا”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں