آیا صوفیہ کا لفظی مطلب کیا ہے ؟ اس مسجد میں موجود حضرت عیسیٰ کی تصویر کی ایک خاص بات کیا ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

آیا صوفیہ کا لفظی مطلب کیا ہے ؟ اس مسجد میں موجود حضرت عیسیٰ کی تصویر کی ایک خاص بات کیا ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

آیا صوفیہ دنیا میں فن تعمیر کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے۔ عمارت کا ایک اور دلکش پہلو موزیک یعنی رنگ برنگی پچی کاری ہے۔ پتھر کے ٹکڑوں کو چاندی، رنگین گلاس، ٹیراکوٹا اور رنگین ماربل سے سجا کرکے یہ اشکال گری کی گئی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ” “” “

اس میں کئی ٹن سونا بھی استعمال ہوا ہے۔ محراب کے بالکل اوپر سیدھ میں پچی کاری کے بیچ میں یسوس مسیح کی تصویر ہے۔ ان کے دائیں طرف حضرت مریم اور بائیں طرف حضرت جبرائیل کی تصاویر ہیں۔ موزیک میں ایک اور شخصیت دکھائی دیتی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا ہے۔ یہ شخص بازنطینی شہنشاہ لیونور ششم ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں میں انجیل ہے، جس کے سرورق پر قدیمی رومن میں ”سلام ہو، میں کائنات کا نور ہوں” لکھا ہوا ہے۔ موزیک کی سب سے اہم اور حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ عیسیٰ کے دائیں اور بائیں حصوں پر چہرے کے تاثرات مختلف ہیں۔ چاروں کونوں پر ڈھالوں میں ہر ترک مسجد کی طرز پر اللہ، محمد، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی نہایت خوشخط لکھ کر لگایا ہوا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے ترکی کی عدالت کے فیصلے سے قبل مختلف مکاتب فکر نے اسے مسجد کا درجہ دینے کی مخالفت بھی کی تھی جبکہ کچھ حلقوں کا کہنا تھا کہ اسے مسلمانوں اور مسیحیوں کی مشترکہ عبادت گاہ قرار دے دیا جانا چاہیے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن اپنی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنے، ملک کی خراب اقتصادی صورت حال اور کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قوم پرستی کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کررہے ہیں اور آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ اسی کا حصہ ہے۔آیا صوفیہ یونانی لفظ ہے جس کا مطلب مقدس فہم ہے۔ آیا صوفیہ اپنے تعمیر کے وقت دنیا کا سب سے بڑا کلیسا تھا۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق رومی شہنشاہ جسٹینین ایک غیرمعمولی چرچ بنانا چاہتے تھے۔ اس حکم نامے کے 15 برس بعد ہی اس گرجا گھر کے بنیادی ڈھانچے کا افتتاح عمل میں آ گیا۔ تقریباً ایک ہزار برس تک یہ مسیحی دنیا کا سب سے بڑا کلیسا تھا۔ استنبول کو فتح کرنے کے بعد سلطان محمد عثمان نے اسے مسیحیوں سے خرید کر مسلمانوں کی مسجد میں تبدیل کردیا۔ لیکن جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے 1934میں اسے میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 86 برس بعد اب آج نماز جمعہ کے ساتھ ہی ایک بار اس کی مسجد کی حیثیت بحال ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں