امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور رومی کے تین سوال

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور رومی کے تین سوال

یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بغداد میں ایک رومی آیا۔ اس نے خلیفہ سے آکر عرض کیا۔ ” میرے یہ تین سوال ہیں‘ اگرآپ کی سلطنت میں کوئی موجود ہے تو بلائیے جو ان سوالوں کے جواب دے۔“۔خلیفہ نے اعلان کر ا دیا ۔” “” “

سب علماء جمع ہوئے ۔ امام صاحب رحمتہ اللہ بھی تشریف لائے ۔رومی مںبر پر چڑھا اور اس نے سوال کئے ۔ ”بتاﺅ خداسے پہلے کون تھا؟ بتاﺅ خدا کا رخ کدھر ہے؟ بتاﺅ اس وقت خدا کیا کر رہا ہے؟ “۔ یہ سن کر سب خاموش ہوامام ابو حنیفہ رحمتہ علیہ آگے بڑھے اور کہا ” میں جواب دوں گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ مںبر سے نیچے آئیں۔“۔رومی مںبر سے نیچے آگیا۔ امام صاحب مںبر پر جا بیٹھے اور سوال دہرانے کو فرمایا ۔ رومی نے سوالات دہرائے۔امام صاحب نے فرمایا ”گنتی شمار کرو۔“۔رومی نے گننا شروع کیا۔امام صاحب نے روکا اور کہا ” ایک سے پہلے گنو۔“۔رومی نے کہا ”ایک سے پہلے کوئی گنتی نہیں۔تو امام صاحب رحمتہ اللہ نے فرمایا ”تو خدا سے پہلے بھی کوئی نہیں ہے۔ اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شمع روشن کی اور فرمایا اس کا رخ کدھر ہے؟؟رومی نے کہا”سب کی طرف۔“امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ”خدا کا رخ بھی سب طرف ہے۔ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس وقت خدا نے تجھے نیچے اتار دیا اور مجھے اوپر چڑھا دیا۔‘رومی یہ سن کر شرمندہ ہو ااور واپس چلا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں