چند روز قبل لاہور میں انتقال کرجانیوالے عالمی شہرت یافتہ صادق پہلوان کی طاقت کا راز کیا تھا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

چند روز قبل لاہور میں انتقال کرجانیوالے عالمی شہرت یافتہ صادق پہلوان کی طاقت کا راز کیا تھا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سنہ 1950 اور 60 کے عشروں میں پاکستان سے مسلسل کولہا پور کا دورہ کرنے والے صادق پنجابی نے کولہاپور اور اس کے گرد و نواح کے نا صرف عام لوگوں بلکہ پہلوانوں کا بھی دل جیت لیا تھا۔صادق پہلوان کا بدھ کے روز لاہور میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر 84 سال تھی۔” “” “

نامور بھارتی مضمون نگار پراگ پھاٹک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔صادق نے مغربی ریاست مہاراشٹر کے کراڑ کے رام راؤ مولک کے شاگرد راگھو بنپوری کو دھول چٹائی۔ اس کے بعد انھوں نے سانگلی کے وشنوپنتا ساورڈیکر کے ساتھ کشتی لڑی۔ پہلے مقابلے میں ساورڈیکر نے صادق کو شکست دے دی۔ لیکن دوسرے ہی مقابلے میں صادق نے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔ اور جب انھوں نے پہلوان ماروتی وڈار کو شکست دے دی اس کے بعد سے اس علاقے میں ان کا دبدبہ قائم ہو گيا۔اس کے بعد صادق نے اس وقت کے عظیم پہلوان محمد حنیف اور رام چندر بیڑکر کے سامنے اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا۔ ایسے حالات بن گئے کہ صادق کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ اس وقت ہندکیسری گنپت راؤ انڈلکر نے صادق کو چیلنج دیا۔ 75 منٹ کی کشتی میں صادق کی طاقت جواب دے گئی اور یہ کشتی برابری پر ختم ہوئی۔نانا پالکر نے بتایا کہ پہلے ہندکیسری اور پھر شریپتی کھنچنالے کے ساتھ صادق کی کشتی کو وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ اس مقابلے میں صادق نے ایک گھنٹے کی کشتی کے بعد میدان مار لیا تھا۔اس وقت کا ایک بڑا نام گوگا پہلوان ہوا کرتا تھا۔ صادق کو چیلنج کرنے کے لیے گوگا پہلوان کولہا پور آئے۔ گوگا کو روایتی کشتی میں مہارت حاصل تھی۔ ان کے بھائی بھی پہلوان تھے۔نانا نے بتایا کہ ممبئی سے کولہاپور پہنچنے والے گوگا سادھانا لاج میں ٹھہرے تھے۔ خاص باغ میں صادق اور گوگا کی کشتی کو دیکھنے کے لیے

دوسری ریاستوں مثلا کرناٹک اور آندھرا پردیش سے بھی لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔اس سنسنی خيز مقابلے سے قبل دونوں نے ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ ایک گھنٹے کی زبردست کشتی کے بعد صادق کی کمر زمین سے لگ گئی۔ ناظرین میں صادق کے والد نیکا پہلوان بھی موجود تھے۔ انھیں یہ شکست برداشت نہ ہو سکتی اور انھوں نے وہیں صادق کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ شکست اور اس کے بعد ہونے والی تذلیل سے صادق کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ صادق کولہا پور کے لوگوں میں ہردلعزیز تھے اس لیے وہاں کے ناظرین کو بھی ان کی شکست سے دکھ پہنچا۔’نانا پالکر کے مطابق صادق سال در سال کولہا پور آتے رہے۔ اسی طرح جب وہ ایک بار آئے تو وہ مراٹھا لاج میں ٹھہرے تھے۔ علاقائی پہلوان ماروتی مانے کے ساتھ کشتی کی مشق کے بعد وہ کنویں پر غسل کرنے جاتے تھے۔ایک بار وہ کنویں سے پانی نکال رہے کہ وہ اپنا توازن کھو بیٹھے اور کنویں میں گر گئے۔ ان کو تیرنا نہیں آتا تھا اور انھوں نے چیخنا شروع کر دیا۔ اس وقت ماروتی مانے، باپو راڑے اور دوسرے پہلوانوں نے مل کر صادق کو باہر نکالا اور اس طرح ان کی جان بچائی۔صادق اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں کولہا پور آتے رہے۔ وہاں کے لوگ صادق کی ایک جھلک پانے کے مشتاق رہتے لیکن ان کی نگاہیں ہمیشہ نیچی ہوتی تھیں۔ نانا پالکر کے مطابق ‘صادق کہتے تھے کہ لوگوں کے جذبات کی میں قدر کرتا ہوں لیکن نگاہیں اس لیے نیچی رکھتا ہوں کہ غیر خواتین پر نظر نہ پڑے۔’وہ پہلوان تھے لیکن ان کا کوئی نخرہ نہیں تھا۔ وہ بہت ہی سادہ تھے اور کسی قسم کے چھکے پنجے سے پاک تھے۔ وہ بہت اعلیٰ کردار تھے۔ اسی وجہ سے کولہا پور کے لوگوں نے انھیں بے پناہ محبت دی۔ اگر چہ کولہاپور کے لوگوں میں پاکستان سے شدید نفرت تھی لیکن انھوں نے کبھی بھی صادق پہلوان کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا۔ہند کیسری دیناناتھ سنگھ بی بی سی سے بتاتے ہیں کہ ‘صادق جیسا پہلوان اور آدمی آسانی سے پیدا نہیں ہوتا ہے۔ وہ قدرت کی دین تھے۔ وہ ایک بہت ہی خوبصورت پہلوان تھے۔ وہ ٹماٹر کی طرح سرخی مائل تھے۔ ان کی قد کاٹھی ایسی تھی کہ وہ شاہی گھرانے کا حصہ نظر آتے تھے۔’وہ کسی کشتی کو ناں نہیں کہتے۔ ان کے والد نیکا پہلوان ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کا دن صبح ساڑھے تین بجے شروع ہوتا تھا۔ روزانہ تین ہزار ڈنڈ اور تین ہزار بیٹھک کیا کرتے تھے۔ طاقت کے لیے وہ گوشت کھاتے تھے۔ دودھ میں خشک میوہ جات ملا کر ٹھنڈا دودھ پیتے۔ ان کے والد ان کی مالش کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں