سونے کی قیمتوں میں 7600روپے کا اضافہ۔۔!! قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سونے کی قیمتوں میں 7600روپے کا اضافہ۔۔!! قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

کراچی (نیوز ڈیسک ) سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔آج پھر سونا فی تولہ 1400 روپے مہنگا ہو گیا جس کے بعد سونا ایک لاکھ 18ہزار 700 روپے فی تولہ ہوگیا۔جب کہ 10 گرام سونا 1200 روپے مہنگا ہو کر ایک لاکھ ایک ہزار 766 روپے کا ہوگیا۔ایک ہفتے کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت” “” “

میں7600 روپے کا اضافہ ہوا۔ سونے کی قیمتیں 9 سال کی بلند ترین سطح پر آگئیں۔گزشتہ روز بتایا گیا کہ خالص سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے باعث جمعرات کو سونے کی مقامی وعالمی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندترین سطح پر پہنچ گئیں جس سے فی تولہ قیمت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 26ڈالر کے اضافے سے 1882 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باعث جمعرات کو مقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ اور فی سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 2300روپے اور 1972 روپے کا اضافہ ہوگیا۔س کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی 24 قیراط کے حامل تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 117300روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 100566روپے ہوگئی ہے۔بلین مارکیٹ کے نمائندوں نے کہاکہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی دبئی گولڈ مارکیٹ کے مقابلے میں فی تولہ سونے کی قیمت 4000روپے کم رہی ہے۔اسی طرح فی تولہ 24قیراط چاندی کی قیمت 30روپے بڑھکر 1350روپے ہوگئی اور دس گرام چاندی کی قیمت 15روپے 70پیسے بڑھکر1157روپے 40پیسے ہوگئی۔ماہر معیشت سمیع اللہ طارق کے مطابق درآمدات بڑھنے کے سبب ڈالر کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے اور مبادلہ پالیسی بدلنے کے بعد مارکیٹ شرح تبادلہ کا تعین کررہی ہے جو ڈالر کی قدر میں اضافے کا سبب ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ وزارت اور خزانہ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کوفوری حرکت میں آنا چاہیے تاکہ روپے کی قدر میں کمی کو کنٹرول کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے کاروباری شعبہ متاثر اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ فوری طور پر ان تمام عوامل کا جائزہ لے جو روپے کو مسلسل کمزور کررہے ہیںاور ان وجوہات پر قابو پائے تاکہ روپے کی قدر اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں