سارا چڑیل کا کیا دھرا ہے ، عمران اینڈ کمپنی کے کئی اچھے کام بھی اسکی وجہ سے بگڑ جاتے ہیں اسی وجہ سے بدنامی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کے معنی خیز انکشافات

سارا چڑیل کا کیا دھرا ہے ، عمران اینڈ کمپنی کے کئی اچھے کام بھی اسکی وجہ سے بگڑ جاتے ہیں اسی وجہ سے بدنامی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کے معنی خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کوئی صدیوں پرانا قصہ نہیں ہے، صرف چالیس پچاس برس پہلے کی کہانی ہے۔ اُس وقت کے ہر شخص کا کسی نہ کسی چڑیل یا بڈاوے سے واسطہ پڑ چکا ہوتا تھا، کسی نے چڑیل کو صرف دور سے دیکھا ہوتا تھا اور کسی نے اُس کا باقاعدہ مقابلہ کیا ہوتا تھا

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور بڈاوے یا شرارتی چھلاوے کچھ نہ کچھ کرکے غائب ہو جاتے تھے۔کبھی فصل خراب کرتے تو کبھی کسی جانور کی رسی کھول کر اسے آزاد کر دیتے۔ وقت کیا بدلا ہے لوگوں کو چڑیلیں اور بڈاوے نظر آنا بند ہو گئے ہیں حالانکہ اگر چڑیلیں موجود تھیں اور نٹ کھٹ بڈاوے واقعی ہوتے تھے تو وہ اب بھی کہیں ضرور ہوں گے۔ آئیے پہلے چڑیلوں اور بڈاووں کے بارے میں جانیں۔اردو لغت بورڈ کے مطابق چڑیل، بھتنی یا ڈائن کو کہتے ہیں۔ افادات سلیم کے مطابق چڑیلوں کے پائوں میں پنجہ پیچھے کی طرف اور ایڑی آگے کی طرف ہوتی ہے اسی لئے پنجابی میں چڑیل کو پچھل پیری بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر مشہور تھا کہ یہ عورتوں کے جادو ٹونے اور مکر و فریب سے انسانوں کے لئے مصائب پیدا کرتی ہیں۔پلاک پنجابی ڈکشنری میں بڈاوا کے معنی چھلاوا، آسیب، فریب اور ڈراوا لکھے ہوئے ہیں گویا چڑیل اور بڈاوا ایک زمانے میں زندگی کا حصہ تھے مگر اب وہ ہماری زندگی سے ایسے نکلے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ چڑیلیں صرف برصغیر کی ہی روایت نہیں، دنیا بھر میں انہیں ایک زمانے میں حقیقت مانا جاتا تھا۔یورپ کے لٹریچر میں بھی چڑیلوں کا بھرپور ذکر ملتا ہے۔ چڑیل عام طور پر بوڑھی، جھریوں بھرے چہرے اور جادو ٹونا کرنے والی خواتین کو کہتے تھے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب 600کے قریب جادوگروں، چڑیلوں اور نجومیوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا۔

فرض کریں کہ ہمارے اردگرد اب بھی انسانی شکل میں چڑیلیں اور بڈاوے موجود ہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں بہت سے پُراسرار معاملات کا راز معلوم ہو سکتا ہے۔ منیر نیازی کو تو شاید یقین تھا کہ اس ملک کے ترقی نہ کرنے کی وجہ ہی جادو اور آسیب ہے۔ ؎منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے۔۔کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔۔ہمارا جمہوری اور معاشی سفر ٹھیک چل رہا ہوتا ہے مگر اچانک چڑیل بڈاوے ایسی شرارت کرتے ہیں کہ مٹھائی کا سارا تھال ہی اُلٹ پلٹ ہو جاتا ہے اور مٹھائی گر کر ضائع ہو جاتی ہے۔انصافی حکومت نوجوانوں کے آدرشوں، اوورسیز کی خواہشات، مڈل کلاس کی آرزئوں اور کارپوریٹ کلاس کے عزائم کے نتیجے میں برسراقتدار آئی تھی اس لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس حکومت کے راستے میں جو بھی مشکلات آتی ہیں وہ چڑیلیں اور بڈاوے ہی لے کر آتے ہیں۔شوگر کے حوالے سے ملوں کو جو سبسڈی دی گئی تھی وہ ایک بڈاوے کی شرارت کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی وگرنہ انصافی حکومت ایسی غلطی کیسے کر سکتی تھی۔ اسی طرح گندم اور آٹا اسکینڈل کے پیچھے چھلاوے اور بڈاوے ہیں وگرنہ گندم کی درآمد کے باوجود آٹا کمیاب کیوں ہوا؟ ملک کی معاشی ترقی میں تنزلی، میڈیا کے خلاف پابندیاں اور حکومت کی طرف سے کوئی پالیسیاں نہ بنانے کے پیچھے چڑیلوں کا ہاتھ ہے۔یہ چڑیلیں پاکستان کی ترقی کی مخالف ہیں اور ہر بار کسی نہ کسی وزیر، مشیر یا وزیراعظم کے معاون کو اپنا شکار بنا کر اس سے سارے منفی کام کرواتی ہیں۔انصافی حکومت اسکینڈلز اور غلطیوں کے حوالے سے بالکل بےقصور ہے۔ یہ سارا کیا دھرا دراصل چڑیلوں، بھوتوں، بھتنیوں اور بڈاووں کا ہے۔ چھوٹی شرارتیں، جیسے اجمل وزیر ایسے نیک پاک بندے کو جھوٹی کال کرکے پھنسانا یا اسد کھوکھر ایسے ایماندار اور دولتمند پر چند ٹکوں کی خاطر رنگ روڈ کا راستہ بدلنے کے جھوٹے اور لغو الزامات، بڈاووں کے کام ہیں وگرنہ تحریک انصاف کے ہر کارکن کی ایمانداری، شرافت اور محنت کی قسم کھائی جاتی ہے، باقی جو بڑے اور برے کام ہیں وہ سب چڑیلوں کی کارستانی ہے، مخالفوں کو جیلوں میں بھیجنا ہو یا ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا ہوں اس میں انصافی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کام میں بھی بھوت پریت کا زیادہ دخل ہے۔اصل میں چڑیلیں اور بڈاوے آج کل ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ویسے ہی مخالف ہوئے ہیں، انصافی حکومت کے کہے بغیر ہی چڑیلیں اور بڈاوے اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ یہاں یورپ جیسا وقت کب آئے گا کہ جب چڑیلیں اور بڈاوے واقعی صرف یادگار رہ جائیں گے اور عملی زندگی سے واقعی نکل جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں