بی بی سی نے اصلیت دنیا کے سامنے رکھ دی

بی بی سی نے اصلیت دنیا کے سامنے رکھ دی

بیروت (ویب ڈیسک) بیروت کے ساحل پر تقریباً تین ہزار ٹن کے قریب امونیم نائٹریٹ چھ سال قبل ایک سمندری جہاز کے ذریعے لایا گیا اور ایک گودام میں رکھ دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ منگل کی شام بندرگاہ کے علاقے میں ہونے والے اس بلاسٹ کی وجہ یہی کیمیائی مادہ ہے جس میں

اب تک 113 افراد کی جانیں جا چکی ہیں اور چار ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ایمونیم نائٹریٹ کرسٹل جیسا سفید ٹھوس مادہ ہے جسے صنعتی استعمال کے لیے زیادہ مقدار میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر کھاد میں نائٹروجن کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسے کان کنی کے لیے بنائے جانے والے مواد کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔یونیورسٹی کالج لندن میں کیمسٹری کی پروفیسر اینڈریا سیلا بتاتی ہیں کہ ’آپ کو امونیم نائٹریٹ زمین سے نہیں ملتا۔ کیونکہ یہ سنتھیٹک ہوتا ہے، اسے امونیا اور نائٹرک ایسڈ کے کیمیائی ملاپ سے بنایا جاتا ہے۔‘ امونیم نائٹریٹ دنیا بھر میں بنایا جاتا ہے اور اس کی لاگت بھی بہت کم ہوتی ہے لیکن اسے ذخیرہ کرنا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ ماضی میں بھی سنجیدہ نوعیت کے صنعتی حادثات کا سبب بن چکا ہے۔پروفیسر سیلا کے مطابق امونیم نائٹریٹ اگر بہت زیادہ دیر تک رکھا رہے تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ان کے بقول ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نمی جذب کرکے چٹان کی طرح سخت ہوجاتا ہے، جو اسے خطرناک بناتا ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے قریب آنے کی صورت میں شدید کیمیائی ردعمل ہو سکتا ہے۔ ‘ایک سابق سینیئر فوجی انٹیلیجنس آفیسر فلپ انگرام نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بتایا کہ یہ جتنا زیادہ عرصے تک پڑا رہے گا اس کے ایندھن جیسی اشیا سے آلودہ ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ان کا کہنا تھا ’یہ کیمیائی مادے میں ردعمل پیدا کرتا ہے۔ یہ خود ہی حدت پیدا کرتا ہے اور ایک بار ایسا ہونا شروع ہو جائے تو یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔‘بیروت واقعہ کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ سے دھواں اٹھ رہا ہے اور پھر بلاسٹ کے ساتھ ہی ایک مشروم جیسا بادل اٹھتا ہے جو عموماً جوہری بلاسٹ کے وقت دیکھا جاتا ہے۔پروفسر سیلا کے مطابق ’سپر سانک شاک ویوز ہوا میں تیزی سے پھیلتی ہیں اور آپ یہ گول بادل کی طرح مرکز سے باہر کی جانب پھیلتا دیکھ سکتے ہیں۔‘انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’شاک ویوز یا لہریں ہوا کے دباؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہوا تیزی سے پھیلتی اور فوراً ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ہوا میں موجود پانی سمٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ بادل بنتا ہے۔‘امونیم نائٹریٹ پھٹتا ہے تو اس سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں جن میں نائٹروجن اور امونیا گیس شامل ہیں۔ نارنجی دھوئیں کا بادل نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے باعث بنتا ہے جو فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔پروفیسر سیلا کے مطابق ’اگر زیادہ ہوا نہ چل رہی ہو تو یہ قریبی لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔‘اتنے طاقتور بلاسٹ کی اہلیت رکھنے کے سبب دنیا بھر کی افواج امونیم نائٹریٹ کا استعمال کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں