کنٹریکٹ ملازمین کو مستقبل کرنے کا معاملہ ۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ سے ایسا حکم کہ غریب ملازمین اور انکے اہل خانہ خوشی سے جھوم اٹھے

کنٹریکٹ ملازمین کو مستقبل کرنے کا معاملہ ۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ سے ایسا حکم کہ غریب ملازمین اور انکے اہل خانہ خوشی سے جھوم اٹھے

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے پشاور یونیورسٹی ملازمین کی اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں، کسی کو نوکری سے فارغ نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پشاوریونیورسٹی ملازمین کی مستقلی سے

متعلق اپیل پرسماعت کی، بینچ نے 300لوگوں کی مستقلی، قانون، بجٹ پوسٹ اور تشہیر سے متعلق سوالات کیے، یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ کچھ پوسٹوں پر تشہیر کی تھی اور کچھ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق تین سال سے کنٹریکٹ ملازمت کرنے والے کو مستقل کیا جا سکتا ہے، کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے، مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا متکبرانہ فیصلہ کرکے بری طرح پھنس چکا ہے۔کشمیر آزادہوکررہے گا‘بھارت کے متکبرانہ اقدام نے دنیاکی نظریں مقبوضہ وادی پر کردیں‘بھارت نے اس سے قبل اپنا نقشہ بنایا اور آزاد کشمیر گلگت بلتستان کو اپنا حصہ دکھایا‘ یہ متنازع علاقہ ہے اس کاردعمل دینا ضروری تھا‘جس طرح کراچی میں ایک لیڈر نے لسانیت کے نام پر نفرتیں پھلائیں اور شہر کو تباہ کیا۔یہ نریندر مودی بھی اسی قسم کا لیڈر ہے جس نے مذہب کے نام پر مسلمانوں کا جانی نقصان کروایا ‘ سیّد علی گیلانی کو ان کی ثابت قدمی پر 14 اگست کو نشان پاکستان دیا جائے گا۔وہ بدھ کو یوم استحصال کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدرنے کہاہے کہ کشمیری پاکستان سے اب سیاسی و سفارتی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات چاہتے ہیں۔اب اخلاقی ، سیاسی ، سفارتی مدد سے معاملہ آگے جاچکا ہے، بھارت کے اقدامات کو روکا نہ گیا تو خطے کو درپیش خطرہ بڑھ جائے گا۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں جو پوٹینشل ہے دنیا میں شاید ہی کہیں ہو، اس کا خود پاکستانیوں کو اندازہ نہیں، ہمیں اس کا علم ہے یہ کدھر جا سکتا ہے‘یہ دنیا کی تاریخ ہے کہ جو بھی اپنی منزل سے ہٹ جائے وہ پیچھے چلا جاتا ہے۔ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے‘ وزیراعظم آزاد کشمیر کی باتوں سے مجھے مایوسی محسوس ہوئی، ان کی باتوں سے لگا کہ وہ اندر سے ہارے ہوئے ہیں تاہم میری سوچ اس سے ہٹ کر ہے، کشمیریوں کو اﷲ پاک ایسے دور سے گزار رہا ہے کہ اب کشمیری آزاد ہوں گے، 5 اگست 2019ءکا مودی کا اقدام بہت بڑی غلطی ہے‘بھارت نے اسٹرٹیجک غلطی کی ہے۔وہ سمجھتا تھا کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے اس لئے دنیا خاموش بیٹھی رہے گی، مغرب چین کے مقابلہ میں بھارت کو استعمال کرنا چاہتی ہے‘دنیا میں بڑی قومیں تکبر میں فیصلے کرکے تباہ ہوئیں‘مودی نفرت پھیلانے والا لیڈرہے‘ واجپائی بھی ان کی جماعت سے تعلق رکھتا تھا لیکن وہ اقتدار میں آ کر تبدیل ہو گیا تاہم مودی جو اندر سے تھا وہ باہر آگیا، آج مودی ہماری کوششوں سے دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں