پاکستان اسٹیل ملز کا نیا چیف ایگزیکٹو کس دبنگ شخصیت کو مقرر کردیا گیا؟ تازہ ترین خبر

پاکستان اسٹیل ملز کا نیا چیف ایگزیکٹو کس دبنگ شخصیت کو مقرر کردیا گیا؟ تازہ ترین خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے بریگیڈیئر (ر) شجاع حسن کو پاکستان اسٹیل ملز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا۔ شجاع حسن کی بطور سی ای او اسٹیل ملز تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بریگیڈیئر (ر) شجاع حسن کو ایک سال کے لیے پاکستان

اسٹیل ملز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور تقرری دونوں طرف سے ایک ماہ کے نوٹس پرمنسوخ کی جاسکے گی۔ جہاں وزارت خزانہ کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کے سابقہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ واجبات کی جزوی ادائیگی کی مد میں ایک ارب 30 کروڑ روپے ادا کیے گئے وہیں سپلائرز گروپ، ڈیلروں، ٹھیکیداروں اور پنشنرز کے گروپ نے پاکستان اسٹیل ملز کو ‘جان بوجھ کر تباہ‘ کرنے کے حوالے سے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے ڈان کو تصدیق کی کہ ’عدالتی حکم کی تعمیل میں گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن ایک ارب 30 کروڑ روپے اسٹیل ملز کو منتقل کیے گئے‘۔ نجی اخبار کی نظر سے گزرنے والے 15 مئی کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صدر پاکستان نے 22 اپریل 2020 کے ای سی سی کے فیصلے کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو جزوی ادائیگی کے لیے 1.3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ قرض 20 سال میں سود کے ساتھ واپس ہوگا جبکہ اس کے لیے 5 سال کی اضافی مدت بھی رکھی گئی ہے۔ اصل رقم کی وصولی کے لیے سود متعلقہ سال کی دی گئی شرح سے وصول ہوگی۔ گزشتہ ہفتے ای سی سی نے 9 ہزار 350 اسٹاف میں 8 ہزار ملازمین کے لیے 18 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کرنے کے منصوبے کو واپس کردیا تھا اور ہدایت دی تھی کہ زیادہ سے زیادہ اسٹاف کو اس میں شامل کیا جائے۔ نظر ثانی کے بعد اب اس کی لاگت 20 ارب روپے سے زائد ہوجائے گی۔ اس حوالے سے متعدد اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ حکومت ان کے 85 ارب روپے کے واجبات ادا کیے بغیر ملز سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں