وزیر اعظم ہاؤس سے ایک ساتھ کئی استعفے!کون کون مستعفی ہونے جا رہا ہے؟ بڑی خبر

وزیر اعظم ہاؤس سے ایک ساتھ کئی استعفے!کون کون مستعفی ہونے جا رہا ہے؟ بڑی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم ہاؤس سے مزید اہم شخصیات کے استعفے آنے والے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی ارشد شریف نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے مزید اہم شخصیات کے استعفے آنے والے ہیں۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو

صاحب ملک کے مالی معاملات دیکھتے ہیں اور جو پیٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے خبروں میں رہتے ہیں، ان کے استعفے آ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا بھی عہدے سے مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوری تندہی اورایمانداری سے کام کیا۔دوسری جانب معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا تانیہ ایدروس عہدے سے مستعفیٰ ہو گئی ہیں تانیہ ایدروس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میری دہری شہریت پر تنقید کی گئی جس کی وجہ سے ڈیجیٹل پاکستان کا مشن مکمل نہیں ہو سکے گا، میں عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہوں لیکن وزیراعظم عمران خان کے مشن پر بطور پاکستانی کام کرتی رہوں گی۔تانیہ ایدروس کو وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے دیضیل میڈیا تعینات کیا تھا جس پر اعتماد کر اظہار کرتے ہوئے ان کی جانب سے کہا گیاتھا کہ تانیہ ایدروس پاکستان میں دیجیٹل میڈیا کی بہتری کے لئے کام کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان پروگرام میں تانیہ ایدروس کی شمولت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی بنیاد ایک ایسے ادارے کے نام پر رکھی گئی تھی جو کسی قسم کا کوئی منافع نہیں لے گی اور نہ ہی وہ حکومت پر بوجھ بنے گی، لیکن اسے سیکیورٹی ایکسچینچ کمیشن کے سیکشن 42 کے نام پر رجسٹر کیا گیا ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا گیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کو جن لوگوں کے نام پر رجسٹر کیا گیا ہے ان میں تانیہ ایدروس کے علاوہ جہانگیر ترین اور آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے سی ای او مدثر الیاس کا نام بھی شامل ہے۔اس حوالے سے مقامی اخبار نے تانیہ ادروس سے بات کی تھی جس پر انہوں نے اخبار کے نمائندے کو بتایا ہے کہ میری شمولیت سے کسی قسم کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اس فاؤنڈیشن کا مقصد حکومت کی مدد کرنا تھا، ہم حکومت سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں لیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں