عثمان بُزدار کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ بنی گالہ کے انتہائی معتبر ذرائع نے اندر کی خبر دیدی

عثمان بُزدار کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ بنی گالہ کے انتہائی معتبر ذرائع نے اندر کی خبر دیدی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بنی گالہ کےانتہائی معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے استعفے یا ہٹائے جانے کی باتیں ہوائی ہیں اور وہ کہیں نہیں جارہے ۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بعض چینلز پر خبر چلی کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی عثمان بزدار سے استعفی طلب کر لیا ہے

مگر جب میں نے بنی گالہ میں رابطہ کیاتو جواب ملا کہ یہ سب غلط اور بھیانک پراپیگنڈا ہے جو ان لوگوں نے پھیلا یا ہے جو وزیراعلی کی جگہ لینے کے خواہشمند ہیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کیخلاف کرپشن کے تمام الزامات کی تحقیقات کرائی اور کسی ایک الزام میں بھی سچائی نہیں ۔ یاد رہے کہ ایک ٹاک شو میں خبر دی گئی تھی جو بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی کیساتھ وائر ہو گئی تھی ۔دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کی اس وقت سے ہی خبریں گردش کررہی ہیں جب سے انہیں اس عہدے پر لایا گیا۔تاہم گزشتہ روز انہیں نیب نے طلب کیا تو ایک بار پھر سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا نیب طلبی عثمان بزدار کو ہٹانے کا صرف ایک بہانہ ہے۔اسی حوالے سے تجزیہ نگار شاہ زیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کی نیب طلبی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا ان پر الزام لگا کر انہیں ہٹانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔اس سے قبل زلفی بخاری کے خلاف بھی کئی ماہ تک نیب انکوائری چلتی رہی اور پھر عدم شواہد کی بنیاد پر یہ انکوائری بند کر دی گئی۔وہ دو سال تک نیب کے الزامات کا سامنا کرتے رہے۔زلفی بخاری نے کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔میڈیا پر نیب ذرائع کی خبروں کے بعد عثمان بزدار کی تبدیلی کی خبریں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ہ اس سے قبل تجزیہ نگار ارشد شریف کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر5 کروڑ رشوت لینے کا الزام ہے، وزیراعلیٰ نے ایک ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کروایا ہے، عثمان بزدار کے خلاف کرپشن کی اوربھی تحقیقات ہوں گی، دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس کرپشن الزام پرکیا ایکشن لیتے ہیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے، جیسے ہی اے پی سی کی باتوں میں تیزی آئی تو بقول اپوزیشن کے نیب کی کاروائی تیز ہوجاتی ہے۔ لیکن جب تک فائلیں بنتی رہیں گی، جن میں کچھ فائلیں کھولی بھی نہیں جاتی پھر جس کو مرضی بلالیں، کچھ نہیں ہوگا۔ ارشد شریف نے بتایا کہ عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی خواہش تو بہت ہے لیکن اس کے باوجود وہ بیٹھے ہوئے ہیں، اب دیکھو اس نیب کی کاروائی سے کیا ہوتا ہے؟ یہ نیا وار ہے۔عمران خان خان اس انکوائری کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف انکوائری ہے کہ شراب کا لائسنس دیا گیا تھا تو اس میں چار پانچ کروڑ کی رشوت کا الزام ہے، وزیراعلیٰ اس کی تردید بھی کریں گے۔ اس طرح کی اور انکوائری بھی وزیراعلیٰ کے خلاف شروع ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں