جس دن پانچ رافیل طیارے فرانس سے بھارت پہنچ رہے تھے اس دن بھارتی شہر انبالہ کے شہری ایک ایک مہینے کا راشن خریدنا کیوں شروع ہو گئے ؟ کشمیریوں اور پاک فضائیہ سے خوفزدہ مودی سرکار کے پول کھول دینے والی خبر

جس دن پانچ رافیل طیارے فرانس سے بھارت پہنچ رہے تھے اس دن بھارتی شہر انبالہ کے شہری ایک ایک مہینے کا راشن خریدنا کیوں شروع ہو گئے ؟ کشمیریوں اور پاک فضائیہ سے خوفزدہ مودی سرکار کے پول کھول دینے والی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) فرانس کے رافیل طیاروں کے آنے سے بھارت بھر میں جس قسم کی اوچھی حرکتیں ان کے عوام، حکومت اور فوجی ادارے کر رہے ہیں‘ انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ وہ غریب ترین آبادی ہے جہاں پہلی دفعہ نئی

اور چمکیلی گاڑی کو دیکھ کر پورا ”SLUM‘‘ اس کے گرد خوشی سے ناچنا اور ا سے ہاتھ لگانے کے لئے اچھل کود کرنا شروع ہو جاتا ہے۔نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔رافیل طیارے جب پیرس سے دبئی اور وہاں سے بھارت کے شہر انبالہ کے لئے پرواز بھر رہے تھے تو بھارت اس ”نئی نویلی دلہن‘‘ کو چھپانے کے لئے کہیں کرفیو تو کہیں چھتوں پر فوج کے پہرے بٹھا رہا تھا جیسے رافیل کو اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ ہو، حالانکہ اس کا شور تو پچھلے ڈیڑھ سال سے سنتے آ رہے تھے اور 27فروری کی ہزیمت کے بعد بھارت کا سارا زور اسی پر تھا۔جب رافیل فرانس سے اڑان بھر کر دبئی میں فرانس و امریکہ کے ہوائی اڈے پر اترے تو بھارت نے دنیا بھر میں مشہور کرا دیا کہ اس کے رافیل طیاروں پر میزائل داغے گئے ہیں جس کی خبر CNN اور دیگر کئی ٹی وی چینلوں پر نشر کی گئی حالانکہ یہ میزائل مبینہ طور پر ایک ایرانی کشتی نے دبئی نہیں بلکہ اپنے ہی سمندری حصے میں مشقیں کرتے ہوئے چلائے تھے۔ جیسے ہی پیرس کے ایئر بیس سے رافیل طیاروں نے اڑان بھری‘ انبالہ ایئربیس‘ جہاں بھارتی ایئر فورس کے5th، 14th اور 15th سکواڈرن تعینات ہیں، اور پورے انبالہ شہر میں پولیس، رضاکار اور سپیشل فورسز کی ٹیمیں اپنی جیپوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں وغیرہ پر لائوڈ سپیکر لگائے گشت کرنا اور یہ اعلان کرنا شروع ہو گئیں کہ ”خبردار کوئی بھی اپنے گھر، فلیٹ، دفتر یاکسی بھی قسم کی عمارت کی چھت پر چڑھنے کی کوشش نہ کرے،

اگر کسی نے کبوتر یا کسی بھی قسم کے پرندے پال رکھے ہیں تو ان کو پنجروں میں بند رکھا جائے، اگر کوئی چھتوں، بالکونیوں پر کھڑا پایا گیا تو اس کے خلاف ایئر فورس ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔ انبالہ شہر اور گرد و نواح کے لوگ حیران تھے کہ کیا ماجرا ہے، کون سی ایسی آسمانی آفت ٹوٹنے والی ہے جو پولیس اور بھارتی آرمی کے اہلکار شہر بھر میں چھتوں، بالکونیوں پر چڑھنے کی اس قدر سختی سے ممانعت کر رہے ہیں۔ ابھی لوگ چھتوں پر چڑھنے کی پابندیوں کے اعلانات سے ہی خوفزدہ ہو رہے تھے کہ ملٹری پولیس اور مقامی تھانوں کی پولیس نے انبالہ چھائونی سے متصل شوکلکنڈ روڈ اور جنرل مرچنٹ مارکیٹ کے اطراف کی تمام سڑکوں اور راستوں کو بند کرانا شروع کر دیا۔ اس علاقے کی زد میں آنے والے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ منگل، بدھ اور جمعرات‘ تین دن کوئی بھی دکان اور دفتر نہیں کھلے گا اور نہ ہی کسی کو اس علاقے میں آنے کی اجا زت دی جائے گی جبکہ ہریانہ کا مشہور اور پُررونق ”پوجا ہول سیل کمپلیکس‘‘ ان تین دنوں کے بعد بھی اس وقت تک نہیں کھلے گا جب تک اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اولاً تو انبالہ شہر اور چھائونی کے لوگ سمجھے شاید کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے مارکٹیں بند کرائی جا رہی ہیں لیکن جب انبالہ شہر کے ڈی ایس پیز منیش سہگل اور رام کمار خود پولیس جیپ میں بیٹھ کر اعلانات کرانے لگے کہ عمارتوں کی چھتوں اور فلیٹس کی بالکونیوں پر بھی آنے کی کسی کو اجا زت نہیں

ہو گی تو ان اعلانات کی خبر جنگل کی آگ کی صورت میں چند منٹوں میں ہی انبالہ سے ہریانہ اور چندی گڑھ سے سیٹلائٹ کے ذریعے پہلے پنجاب اور پھر پورے بھارت میں پھیل گئی۔ ہر کوئی اپنی جگہ سہم گیا کہ نجانے کیا ہونے والا ہے؟انبالہ چھائونی چونکہ 1965ء اور 71ء کی لڑائیوں میں سب سے زیادہ حرکت میں رہی تھی، اس لئے اس کے اردگرد آرمی اور ایئر فورس کی سپیشل سروسز کی بھاری تعداد میں تعیناتی ان کی وڈیوز اور افواہوں سے سب کو یقین ہو گیا کہ کوئی لڑائی یا شاید کچھ بڑا ہونے والا ہے کیونکہ ایئر بیس سے دور دور تک کی آبادیوں میں کسی کو بھی بالکونی، ٹیرس یا چھت پر کھڑے ہونے سے روکنا ظاہر کرتا تھا کہ ضرور کوئی اہم بات ہے۔ اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ فوج اور پولیس کی بھاری نفری کے ذریعے انبالہ چھائونی سے ملحقہ قصبوں اور دیہات سمیت اردگرد کی تمام مارکیٹس کو بھی زبردستی بند کرا دیا گیا جس نے افواہوں کے ساتھ فطرتی طور پر ایک ہیجان انگیز صورت اختیار کر لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیٹلائٹ نے ”کچھ ہونے جا رہا ہے‘‘ کی خبر بھارت کے باہر بھی بھجوا دی اور امریکہ، یورپ، دبئی اور سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں میں مقیم بھارتیوں نے اپنے عزیزوں اور دوستوں سے فون پر ”اندر کی خبر‘‘ پوچھنا شروع کر دی۔ نتیجتاًہر کوئی اپنے گھر سے ضررویاتِ زندگی کا سامان خریدنے کے لئے بازاروں کا رخ کرنے لگا جس سے وہ افراتفری مچی کہ پنجاب، چندی گڑھ اور ہریانہ سمیت پورے انبالہ کی ٹریفک جا م ہو کر رہ گئی۔

لوگ ایک ایک ماہ کا راشن خریدنا شروع ہو گئے اور چند گھنٹوں میں ہی منڈیوں، دکانوں اور گوداموں میں موجود سٹاک ختم ہو گیا اور لوگ تھیلے پکڑے بازاروں میں بھاگتے کودتے دھکے کھانا شروع ہو گئے۔ میڈیا نے کورونا وائرس کی پابندیوں کے تناظر میں بازاروں میں انسانی سمندر کی رپورٹنگ شروع کی تو ہریانہ سے دہلی تک چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ مودی جی پاکستان کو سبق سکھانے لگے ہیں۔ اس سبق سکھانے کی افواہ نے دیگر بھارتی علاقوں میں بھی ہریانہ کی سی کیفیت پیدا کر دی جس سے مودی سرکار کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ تب جا کر فیصلہ ہوا کہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے کہ لوگوں کو چھتوں پر نہ آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ اور اس غیر ضروری احتیاط اور انبالہ کے کچھ حصوں میں کرفیو کا نفاذ چھپانے کیلئے خبر اڑا دی گئی کہ ہمارے رافیل طیاروں پر دبئی میں ہوائی اڈے پر دشمن کی جانب سے میزائل حملہ ہوا تھا اس لئے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ڈی ایس پی انبالاکینٹ منیش سہگل نے میڈیا کو بتایا کہ د شمن کی جانب سے ہمارے رافیل کے خلاف کسی بھی کارروائی سے بچنے کیلئے تین دن کے لئے انبالہ شہر کی چھتوں پر چڑھنے اور تصویریں بنانے سے روکا جا رہا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ پاکستان یا چین ان کی تصاویر لینے کے علاوہ ”سدھائے ہوئے خطرناک پرندے‘‘ انبالہ ایئربیس کے اردگرد نہ چھوڑ دیں۔اندازہ لگائیے کہ پرندوں سے ڈر کر کرفیو لگا دینے والے رافیل آ جانے پر پاکستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں جس کے شاہین گزشتہ سال 27فروری کو اسے ایسا سبق سکھا چکے ہیں جو وہ کبھی نہیں بھول سکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں