وہی ہوا جسکا ڈر تھا : کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑا اختلاف ۔۔۔ امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دینے والی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) کئی روز سے پاکستان میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو رہی ہے لیکن جہاں اس بحث میں بھارت کی مذمت کی جا رہی ہے، وہیں سعودی عرب کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ کیا اسلام آباد کو اپنی سعودی پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیے؟اس تنقید میں

شدت اس وقت آئی جب شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دبے لفظوں میں سعودی عرب پر تنقید کی اور کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سے کہیں گے کہ او آئی سی کے وزراء خارجہ کے اجلاس کو بلالیا جائے، چاہے اس میں سعودی عرب شرکت کرے یا نہ کرے۔نامور صحافی عبدالستار ڈوئچے ویلے کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔پاکستان کی وزرات خارجہ کی ترجمان نے بھی شاہ محمود قریشی کے اس بیان کا دفاع کیا ہے۔ تاہم دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ریاض اور اسلام آباد میں تعلقات تاریخی اور برادرانہ ہیں۔ ناقدین کے خیال میں کشمیر کے مسئلے پر سعودی عرب کی خاموشی پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، عوام اور سیاست دان سب ہی نالاں ہیں۔پاکستان نے حالیہ برسوں میں ترکی اور ایران سے تعلقات بہت بہتر کیے ہیں۔ ترکی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلم دنیا کی لیڈرشپ حاصل کرنا چاہتا ہے جب کہ ایران اور سعودی عرب کی بھی یہی کوشش ہے۔ کچھ ناقدین کے خیال میں ریاض اس منظر نامے کو پسند نہیں کرتا۔ ”پاکستان کے زیادہ تر سیاست دان بھی سعودی حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے اور کشمیر کے مسئلے پر خاموشی کی وجہ سے طاقت ور حلقے بھی سعودی عرب سے ناراض لگتے ہیں۔ تو ممکن ہے کہ اسلام آباد کو اپنی سعودی پالیسی تبدیل کرنی پڑے۔‘‘پاکستان میں کئی حلقے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے میں بہت مماثلت دیکھتے ہیں اور ان کے خیال میں بھارت بالکل اسی طرح کشمیریوں کو اقلیت میں بدل رہا ہے، جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان ہی کی سرزمین پر اقلیت میں بدلا۔سعودی عرب کے بھارت اور اسرائیل دنوں کے ساتھ مراسم خوشگوار ہیں، جس پر کئی پاکستانی چراغ پا ہیں۔ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارے برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکارے نجم الدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بھارت اور اسرائیل کے ساتھ قربت نے بھی پاکستان میں عوامی جذبات کو ریاض کے خلاف کیا ہے اورملک میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے تحت خارجہ پالیسی بنانی چاہیے۔مقامی میڈیا نے باوثوق ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے سعودی قرضہ اتارنے کی خاطر چین سے قرضہ حاصل کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کو ایک بلین ڈالر کا قرضہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے تاکہ اسلام آباد حکومت اسے ریاض حکومت کو لوٹا سکے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے پاکستان سے مالی تعاون میں کمی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب کو قرضہ واپس نہ کرنے کے باعث اسے بین الاقوامی قرض خواہوں کی شرائط پورا نہ کر سکنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے لیکن حکومت پاکستان نے ابھی تک اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں