چین کا جوہری پروگرام۔۔!! توسیع کیلئے کونسا اسلامی ملک مدد کیلئے میدان میں آگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

چین کا جوہری پروگرام۔۔!! توسیع کیلئے کونسا اسلامی ملک مدد کیلئے میدان میں آگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کے جوہری پروگرام میں توسیع کیلئے بڑا اسلامی ملک مدد کرنے میدان میں آگیا۔ چین جوہری پروگرام میں توسیع کے لیے سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق، چین ، سعودی عرب میں یورینیئم افزودگی کے حوالے سے کام کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جس کے لیے سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع شہر العلا میں چین کی دو کمپنیوں کی معاونت سے پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران، چین معاہدے میں پاکستان کی سب سے زیادہ دلچسپی تہران سے نئی دہلی کی دوری ہے۔ اس معاہدے سے متعلق زیادہ تر معلومات ابھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔ یہ بڑی حد تک سی پیک سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کا ڈرافٹ 18 صفحات پر مشتمل ہے جس میں زیادہ تفصیلات نہیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں سی پیک منصوبے کی تفصیلات 234 صفحات پر مشتمل تھی۔ تاہم، قدر مشترک بات یہ ہے کہ دونوں معاہدوں کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبہ میں معمول کا تعاون جاری ہے اور چین ایٹمی توانائی کے پر امن استعمال کے لئے ذمہ درانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ جمعہ کو یہاں بریفنگ کے دوران انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ چین ایٹمی اسلحہ کی ممکنہ ریسرچ و ڈویلپمنٹ کے لئے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ حالیہ برسوں میں دونوںممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف شعبوں میں مفید تعاون کو فروغ ملا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے حوالہ سے بین الاقوامی ذمہ داریوں پر سختی سے کاربند رہے گا اور باہمی احترام ومفاد کی بنیادوں پر ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے لئے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا ، نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے یہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا سعودی عرب ایٹمی اسلحہ کی ممکنہ ریسرچ اورڈویلپمنٹ کے لئے چینی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں یا نہیں جبکہ سعودی عرب نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں