یار مجھے بچا لو : آپ ایک سفارشی رقعہ اپنے نام سے لکھ دو کہ ۔۔۔۔ اپنی جان بچانے کے لیے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کس کی منت سماجت کی ؟ دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

یار مجھے بچا لو : آپ ایک سفارشی رقعہ اپنے نام سے لکھ دو کہ ۔۔۔۔ اپنی جان بچانے کے لیے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کس کی منت سماجت کی ؟ دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) ایک صحافی نے کہا: آخر آپ اس ابہام کو دور کیوں نہیں کرتے کہ سیکرٹریٹ کہاں بنے گا؟ اگر بہاولپور میں بننا ہے تو صاف بتا دیں‘ گومگو میں نہ رکھیں۔ ملتان کے سارے ایم این اے اور ایم پی اے کہہ رہے ہیں کہ سیکرٹریٹ ملتان میں بننا چاہیے

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لیکن بہاولپور والے کامیاب ہو گئے ہیں اور ملتان والے ناکام۔سیکرٹیریٹ بہاولپور ٹھہرا ، سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ملتان کا مقدمہ ٹھیک طریقے سے نہیں لڑا اور ملتان میں سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ اوپر ٹھیک طریقے سے پیش نہیں کیا۔ ایک صحافی نے کہا: اگر آپ کہتے ہیں کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ملتان بیٹھے گا تو اس کا نوٹیفکیشن لائیں۔ ایک موقع پر خاصی تلخی ہو گئی۔ ایک صحافی نے کہا: ایک وقت تھا‘ آپ تب تک گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے جب تک ہم لوگ کیمرے لے کر آپ کے گھر کے باہر نہیں پہنچ جاتے تھے‘ ہم ملتان کے بیٹے ہیں‘ آپ کے ووٹر بھی ہیں اور سپورٹر بھی‘ ہم آپ سے سوال کر سکتے ہیں۔ اوپر سے کسی صحافی نے کہہ دیا کہ آپ نے اگلا الیکشن بھی یہیں سے لڑنا ہے۔ اس پر شاہ محمود قریشی گرمی کھا گئے اور کہنے لگے کہ مجھے پتا ہے‘ اپنا الیکشن میں خود لڑوں گا‘ آپ نے نہیں لڑنا‘ آپ فکر نہ کریں۔یہ تو پریس کانفرنس کا احوال تھا۔ دوسری طرف احمد حسین ڈیئر کا کہنا ہے کہ پورے ملتان میں اپنی مرضی کی تقرریوں اور عہدوں کے حصول کے علاوہ میرے حلقہ این اے 154 میں تھانیدار اور پٹواری بھی شاہ محمود قریشی صاحب کی مرضی سے لگتے ہیں‘ وزیراعلیٰ میری بات نہیں سنتے تھے۔ میری وزیراعظم سے لاہور ملاقات ہوئی تو انہوں نے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ

مجھ سے ملاقات کریں اور میرے حلقے کے مسائل حل کریں۔ احمد حسین ڈیئر نے ایک رازدار کو بتایا کہ وزیراعظم سے یہ واضح ہدایت سن کر وزیراعلیٰ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مجھ سے کہاکہ پہلے میں ملتان کے بارے میں صرف شاہ محمود قریشی کی بات ماننے پر مجبور تھا اب مجھے اس سلسلے میں آپ کا کہہ دیا گیا ہے‘ آپ دیکھیں کہ میں آپ کو کس طرح اکاموڈیٹ کرتا ہوں۔ اللہ جانے اس بات میں کتنی سچائی ہے، لیکن ایک واقفِ حال کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی بہاولپور اور اس کے آس پاس زمینیں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ سیکرٹریٹ بہاولپور میں بنے کیونکہ اس سے ان کی زمینوں کی ویلیو زمین سے آسمان پر چلی جائے گی اور ان سب کی چاندی ہو جائے گی۔ یہ زمینوں وغیرہ کے معاملے بڑے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ ہم جیسے معمولی لوگوں کو ان چیزوں سے کیا مطلب؟ بڑے لوگوں کی باتیں بڑے لوگ ہی جانتے ہیں۔ ہمیں تو یہ پتا ہے کہ آٹا ستر روپے کلو اور چینی سو روپے کلو مل رہی ہے اور حکومت سوئی ہوئی ہے۔نوٹ: ایک باوثوق ذریعے نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان کے اللہ بخش کورائی کو سٹریٹیجک کمیٹی فار میڈیا پنجاب کا رکن بنانے پر پڑنے والے شوروغوغا کو کم کرنے کیلئے ایک مقامی ایم پی اے کو بمشکل راضی کرکے ایک سفارشی رقعہ اور بیان دلوا دیا ہے کہ موصوف کی تقرری ان کی سفارش پر کی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں