پاکستان اس حال کو کیسے پہنچا ۔۔؟؟ پاکستان کا وہ وزیراعظم جس کے بیٹے کے اکاؤنٹ میں راتوں رات 100 کروڑ روپے ڈال دیے گئے تھے ؟ عمران خان پر تنقید کرنے والوں کو شرم سے پانی پانی کردینے والی حقیقت

پاکستان اس حال کو کیسے پہنچا ۔۔؟؟ پاکستان کا وہ وزیراعظم جس کے بیٹے کے اکاؤنٹ میں راتوں رات 100 کروڑ روپے ڈال دیے گئے تھے ؟ عمران خان پر تنقید کرنے والوں کو شرم سے پانی پانی کردینے والی حقیقت

لاہور (ویب ڈیسک) ہماری طاقتورفوج نے بدامنی کے جن کوممکنہ حدتک بوتل میں بندکررکھاہے۔کراچی جیسے نازک شہرمیں بھی امن قائم ہوچکاہے۔اس وقت تمام دشمن ممالک کی ایک ہی تمناہے۔اپنی مرضی کا وزیراعظم۔ دوسرا، فوج اورسیاسی حکومت کے مابین چپقلش۔ بھارت، اسرائیل، افغانستان کوعلم ہے کہ جب تک یہ دوکام نہیں کیے جاتے،

نامور کالم نگار راؤ منظر حیات اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کومکمل طورپربربادکرنا ممکن نہیں۔انھیں ایسا وزیراعظم چاہیے ہی نہیں جو آزادانہ فیصلے کرسکے اور اس کے ریاستی اداروں سے بہترین تعلقات ہوں۔اس عجیب وغریب لمحے میں، وزارتِ عظمیٰ عمران خان کے پاس ہے۔چرچل کی طرح وہ بھی ایک ضدی،ہٹ دھرم اور اَنا پرست انسان ہے۔اس کی مشاورت کاعمل بھی مناسب نہیں لگتا۔مگروہ آزادانہ فیصلے کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ریاستی اداروں کے ساتھ بیٹھ کروہ ایسے ہمت والے کام کرنے کی استطاعت رکھتاہے جواس کے سیاسی حریفوں کے پاس ہرگز ہرگزموجودنہیں ہے۔اس کے دل میں یہ بھی موجود نہیں ہے کہ اس کی اولاد،وقت کے ساتھ ساتھ حکومت سنبھالے۔ قرائن ہیں کہ وہ یکسوئی کے ساتھ ملکی منفعت کے لیے کام کرناچاہتاہے۔ ورلڈ وار دوئم کی طرح،وہ ایسا شخص ہے جونازک حالات میں مشکل فیصلے کرنے کی جرات رکھتا ہے۔ہرگزیہ عرض نہیں کر رہاکہ وہ ایک مثالی سیاستدان یامثالی وزیراعظم ہے۔ بلکہ اس کے بعض غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت اسے سیاسی ہزیمت کا سامنا کر وا رہی ہے۔ویسے ایک نکتہ اوربھی ہے۔یہ’’نازک حالات‘‘ کااستعارہ ہماری قومی بدقسمتی رہاہے۔1947 سے لے کرآج تک ہروقت ہمیں یہی بتایاجاتاہے کہ حالات بہت زیادہ نازک ہیں۔خیریہ ہمارامقدرہے کہ تہتربرس سے ہم ایک عذاب سے نکلتے ہیں تودوسرا عذاب، جبڑے کھولے ہمارے انتظارمیں ہوتاہے۔قحط سالی پر قابو پانے کی کوشش ختم نہیں ہوتی،توسیلاب ہماری خوشحالی اورخوابوں کوبہاکرلیجاتاہے۔عجیب بات ہے کہ عوام کی فلاح کے لیے خزانہ ہروقت خالی رہتا ہے۔ مگر سیاسی رہنماؤں کی دولت میں بھرپوراضافہ ہوتا رہتا ہے۔ایک سابقہ وزیراعظم کے بیٹے کے اکاؤنٹ سے یک دم، سوکروڑ کی رقم آجاتی ہے۔ان اکابرین کے ساتھ ساتھ،ان کے چیلے چانٹے سائیکل سے لینڈکروزر کا سفر،صرف اور صرف دس سال کے جمہوری عذاب میں طے کرلیتے ہیں۔فٹ پاتھ سے اُٹھ کریہ مصاحبین ہاؤسنگ کالونیوں،پلازوں اور بیش قیمت زمین کے مالک بن جاتے ہیں۔مخصوص افراد، بجلی، کھاد اور چینی کے کارخانوں سے ناجائزدولت کے پہاڑکھڑے کر لیتے ہیں۔ان محیرالعقول معجزوں سے قوم کامستقبل اور حال بربادہوکررہ چکاہے۔اس وقت،ان تمام قائدین اورحواریوں کوایک نرم وزیراعظم چاہیے۔جوان کے دباؤمیں آکرفیصلے کرے۔انھیں ماضی کی طرح،ہرجرم کی معافی ملتی رہے، مگریہ ضدی،ہٹ دھرم عمران خان ان کے ہرمنصوبے کے سامنے کھڑاہوجاتا ہے۔تمام سیاسی مسائل ایک طرف،تمام جماعتیں ایک طرف،یہ واحدسیاستدان ہے جسکے وزیراعظم بننے سے ہمارے دشمن ممالک کے دلوں میں خوف محسوس ہوا ہوگا۔بڑے عرصے کے بعد ان کے ذہنوں میں آیاہوگا، کہ یہ ہٹ دھرم وزیراعظم،ملک کومستحکم کرنے کے لیے مشکل سے مشکل فیصلہ کرسکتاہے۔اصل مسئلہ ہی اب یہ ہے!آگے آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں