زرتاج گل مشکل میں، وہ "کام "ہو گیا جس کی توقع کسی کو نہ تھی

زرتاج گل مشکل میں، وہ “کام “ہو گیا جس کی توقع کسی کو نہ تھی

زرتاج گل مشکل میں، وہ “کام “ہو گیا جس کی توقع کسی کو نہ تھی

اسلام آباد میں چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کا معاملہ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کو توہین عدالت نوٹس جاری کردیا

اسلام آباد وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کے ممبران کو بھی توہین عدالت کے شوکاز نوٹسزجاری کر دیئے گئے،سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے عدالت میں کہا کہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں، کابینہ ارکان کا کوئی تعلق نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے وائلڈ لائف بورڈ کی منظوری دی تھی ذمہ دار بھی وہ ہیں،

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی شوکاز نوٹس جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی،سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی کو بھی توہین عدالت شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

گزشتہ سماعت پر وزیر مملکت زرتاج گل اور معاون خصوصی امین اسلم کے خلاف توہین عدالتی کی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے ذمہ داروں کے نام طلب کئے تھے،عدالت نے سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کل ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا

عدالتی حکم کے باوجود چڑیا گھر سے ریچھوں کو منتقل نہ کیے جانے کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ شیروں کے ساتھ کیا ہوا؟ وکیل نے کہا کہ شیر اور شیرنی کو لاہور منتقل کیا جا رہا تھا، پروفیشنلز کی سروسز لی گئی تھیں،

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی، ایم سی آئی اور وائلڈ لائف بورڈ صرف سیاست کر رہے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تینوں محکمے اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، عدالت نے تعین کیا تھا اگر کسی جانور کو کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہو گا، عدالت کو اس بات کا اندازہ تھا کہ جانوروں سے یہ ہونے جا رہا تھا،فیصلہ دیا تھا کہ ممبرز وائلڈ لائف بورڈ تمام جانوروں کو منتقل کرنے کے ذمہ دار ہوں گے،وفاقی حکومت نے جانوروں کی منتقلی کیلئےبورڈ تشکیل دے کر نوٹیفکیشن پیش کیا تھا،عدالت نے ابزرو کیا کہ متعلقہ اداروں میں سے کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تمام ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی؟ان تمام ذمہ داران نے عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی کی، کیوں نہ ان تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ عدالت تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرےگی،یہ آسان ہے کہ بیان دے کر کریڈٹ لے لیں، جو ریاستی نمائندے جانوروں کا خیال نہیں رکھ سکتے وہ انسانوں کا کیا خیال رکھیں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں