محمد بن سلمان کے لئے بڑی مشکل میں؟

محمد بن سلمان بڑی مشکل میں؟

امریکی عدالت نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سمن جاری کر دیئے ہیں

امریکی عدالت نے سمن سابق سعودی انٹیلی جنس اہلکار کی درخواست پرجاری کیے ہیں۔ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی جانب جاری کیے گئے سمن کی نوعیت آفیشل ہے جس میں درخواست گزار کسی شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتا ہے۔

خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی ضلعی عدالت برائے کولمبیا نے جمعہ کو یہ سمن جاری کیا ، سمن ایک قانونی چارہ جوئی کا سرکاری نوٹس ہے ، ان سمنوں میں ، جن میں شہزادہ محمد بن سلمان کے علاوہ 12 افراد شامل تھے ،کہا گیا ہے کہ”اگر آپ جواب دینے میں ناکام رہے تو ، آپ کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا.

اس مقدمے میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے الجبری کے دو بچوں کو حراست میں لینے کا حکم دیا تھا ، جو مارچ کے وسط میں دارالحکومت ریاض میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئے تھے ، اور دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کرنے اور ان پر تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش میں۔

سابق امریکی ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل ، بروس فین نے الجزیرہ کو بتایا ،محمد بن سلمان اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سکریٹری برائے خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ رابطہ کریں گے، اور استثنیٰ کی تجویز دیں گے، یہ قانون کا ایک عجیب و غریب دائرہ ہے ، لیکن وہ عدالت سے اس معاملے کو خارج کرنے کے لئے کہتا ہے کیونکہ اس سے امریکہ کے خارجی تعلقات میں مداخلت ہوگی اور ایک سربراہ مملکت یا اعلی سطحی عہدیداروں کے ساتھ تعلقات میں مداخلت ہوگی۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر میں امریکی انتخابات سعودی عرب کے لئے اہم ہوں گے۔ میں ابھی آپ کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ سعودی عرب اور ولی عہد شہزادے پومپیو اور ٹرمپ سے بات کر رہے ہیں کہ وہ اسے اس کیس سے الگ کردیں

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سابق انٹیلی جنس اہلکارکےقتل کی کوشش کی گئی تھی، سابق انٹیلی جنس اہلکار پر کینیڈا میں حملہ کرایا گیا۔ سابق سعودی انٹیلی جنس اہلکار الجبری کینیڈا میں رہائش پذیر ہے اور سعودی عرب نے انٹرپول پر الجبری کے ریڈوارنٹ جاری کیےہوئےہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیخلاف واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں سابق سعودی اہلکار کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے۔

سابق ولی عہد محمد بن نائف کے سابق انٹیلی جنس سربراہ سعدالجبری نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ سعدالجبری نے واشنگٹن ڈی سی میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ محمد بن سلمان مجھے قتل کرنا چاہتے تھے اور اس کام کیلئے سعودی ولی عہد نے 50رکنی ہٹ اسکواڈ کینیڈا بھیجا۔ 106صفحوں پر مشتمل درخواست کے متن میں درج ہے کہ میرے بچوں اور بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا جمال خاشقجی کے قتل میں جو ٹائیگر سکواڈ ملوث تھا اسی کے کچھ ارکان سعد الجبری کے قتل کے لیے بھیجے گئے تھے۔

عدالت میں دائردرخواست کے مطابق کہ اس گروہ میں و شخص بھی شامل تھا جس پر الزام ہے کہ اس نے خاشقجی کی جلد اتاری تھی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ان افراد نے “چھپ کر کینیڈا میں داخل ہونے کی کوشش کی ، سیاحتی ویزا پر سفر کیا” اور ایک دوسرے کو نہ جاننے کا بہانہ کیا۔ مشتبہ بارڈر ایجنٹوں کو ایک تصویر ملی جس میں متعدد مردوں کو ایک ساتھ دکھایا گیا ، جس میں “ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے اور اس کے مشن کو ناکام بنا دیا گیا”۔

سعد الجبری کئی سالوں تک سعودی عرب میں برطانیہ کی ایم آئی سکس اوردیگر مغربی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں رہنے والی اہم شخصیت رہے ہیں اور ان کی عمر61 سال ہے۔ 2017 میں سعد الجبری براستہ ترکی کینیڈا فرار ہو گئے تھے۔سعد الجبری کئی برس تک محمد بن نائف کے دست راست رہے۔ وہ کابینہ کے وزیر تھے اور میجر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔

سنہ 2017 میں جب محمد بن سلمان محمد بن نائف کی جگہ ولی عہد بن گئے تو سعد الجبری سعودی عرب چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعد الجبری کو قتل کرنے کا ناکام منصوبہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تھوڑے ہی عرصے بعد کا ہے۔

الجبری سعودی حکومت کے سابق عہدیدار تھے اور وہ تین سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

کینیڈا کے وفاقی وزیر برائے عوامی تحفظ بل بلئیر کا کہنا ہے کہ حکومت ان واقعات کے بارے میں آگاہ ہے جن میں غیر ملکی افراد نے کینیڈین افراد اور وہاں رہنے والے دیگر لوگوں کو دھمکی دینے، خوفزدہ کرنے یا ان کی نگرانی کی کوشش کی

الجبری نے دعوی کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے اسے سعودی عرب واپس لانے کے لئے بار بار کوششیں کی ہیں ، یہاں تک کہ نجی پیغامات بھیجا ، جس میں لکھا گیا ہے: “ہم یقینی طور پر آپ تک پہنچیں گے۔” ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ولی عہد شہزادے نے زبردستی واپسی کی کوشش کرنے کے لئے اپنے دو بالغ بچوں اور اس کے بھائی کو حراست میں لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں