یہ اشارہ دراصل کس کا تھا ؟ ہر سال چھڑ جانیوالی بحث کا ڈراپ سین کر دینے والا انکشاف

یہ اشارہ دراصل کس کا تھا ؟ ہر سال چھڑ جانیوالی بحث کا ڈراپ سین کر دینے والا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) دوسری ورلڈ وار کے اختتام پر جب صدر ٹرومین کے حکم پر جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم پھینکے گئے تو ایک کربناک حقیقت کا انکشاف ہوا۔ کرۂ ارض تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے۔ ذرا سی غلط فہمی یا خوش فہمی تمام دنیا کو تباہ وبرباد کر سکتی ہے۔

پاکستان کے سابق بیوروکریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پیرس کی آرٹ گیلری میں ایک تصویر میں ایٹمی وارکے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ تمام دنیا ایک وسیع وعریض ریگستان بن چکی ہے۔ ایک جلے ہوئے درخت کی مرجھائی ہوئی شاخ پر بندروں کا جوڑا بیٹھا ہے۔ بندر مادہ سے کہہ رہا ہے”Let us give birth to another generation” روس ‘ برطانیہ‘ فرانس اور چین نے بھی مہلک ہتھیار بنانے میں دیر نہ کی اور اس طرح MAD (Mutually Assured Destruction) کے نظریے نے جنم لیا۔ آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے‘ وہ بھلا کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ ایک ہزار برس کی غلامی اور تقسیم کو وہ کسی طرح بھی بھول نہیں پایا ہے۔ پاکستان سے اب تک تین لڑائیاں لڑ چکا ہے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں کئی کمزوریاں ہونگی مگر وہ پاکستان کا ایک بیدار مغز حکمران تھا۔ ان کی دور رس نگاہوں نے افق پر ایک بہت بڑے خطرے کو منڈلاتے ہوئے دیکھا تو واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ’’ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم ضرور بنائیں گے‘‘وہ یقینا قبولیت کی گھڑی تھی۔ سوپر پاورز کی مخالفت کے باوجود پاکستان آگے بڑھتا گیا۔ درپردہ اس کا سب سے بڑا مخالف اسرائیل تھا۔ اسے اس بات کا ادراک تھا کہ یہ ہتھیار مسلم ممالک کو ایک حفاظتی چھتری مہیا کرے گا۔ اس نے امریکہ کے ذریعے اس پروگرام میں روڑے اٹکانے کی بھرپور کوشش کی۔ شاید وہ کامیاب بھی ہو جاتا

لیکن افغانستان میں روسی مداخلت نے صورت حال یکسر بدل دی۔ امریکہ یہ پراکسی وار پاکستان کی مدد کے بغیر جیت نہیں سکتا تھا۔ اس لئے اس نے عملاً اغماض برتا۔ ضیاء الحق کے دور میں اسے تیز کرنے کا موقع مل گیا۔ مشرف دور میں امریکہ ایک بار پھر افغانستان کی لڑائی میں کود پڑا۔ اب کے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ میزائلوں کی دوڑ میں بھی پاکستان ہندوستان سے آگے نکل گیا۔1999ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی تجربہ کیا تو پاکستان کو بھی اپنے Cards Show کرنے کا موقع مل گیا۔ صدر کلنٹن نے ترغیب وتحریص کے ذریعے مقدور بھر کوشش کی کہ پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دے‘6ارب ڈالر کی پیشکش بظاہر تو بڑی رقم نظر آتی ہے لیکن اگر اسے 22کروڑ آبادی والے ملک کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ میاں نوازشریف اسے قبول کرنا چاہتے تھے یا نہیں‘ اس پر دو آراء ہیں۔ میاں صاحب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شریف فیملی بنیادی طور پر تاجر خاندان ہے۔ اس آفر پر میاں صاحب کی رالیں ٹپک پڑیں۔اس رقم سے بہت کچھ کیا جاسکتا تھا، انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی اس لئے کافی وقت میٹنگز میں ضائع کر دیا۔ کابینہ کو بھی درپردہ رام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بقول شیخ رشید صرف تین ممبروں نے اختلاف کیا۔ راجہ ظفرالحق، گوہر ایوب اور وہ خود ‘ لیکن جس شخص کے دوٹوک الفاظ نے میاں صاحب کو لرزہ براندام کردیا وہ مجید نظامی تھے۔ میاں صاحب سوچ لیں! قوم آپکا بلاسٹ کر دیگی۔

چنانچہ چاغی کی پہاڑیاں چھ ایٹمی بلاسٹس سے لرز اٹھیں‘ اس کا کریڈٹ تو بہرحال انہوں نے لینا تھا یا انہیں ملنا ہی تھا۔ ان کے حامیوں نے دادوتحسین کے ڈونگرے برسانا شروع کر دیئے۔ محمود غزنوی نے سومنات کا مندر توڑتے ہوئے جس قسم کے الفاظ کہے تھے اس سے ملتے جلتے جملے میاں صاحب کے منہ میں ڈال دیئے گئے۔ انہوں نے صدر کلنٹن کو ٹکا سا جواب دیا۔ اس طرح جرأت‘ جوانمردی اور بہادری کی مثال قائم کر دی۔ ان داتا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا آسان نہیں ہوتا! مشرف کولن پاول کی ایک فون کال پر سمندری جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔ ضیاء الحق نے جمی کارٹر کی ’’مونگ پھلی‘‘ کی پیشکش کو ٹھکرایا نہیں تھا‘ بتاشے مانگے تھے۔ ہوسکتا ہے دونوں نکتہ نظر میں کچھ نہ کچھ وزن ہو لیکن اصل سوال کچھ اور ہے! کیا میاں صاحب کے پاس تجربہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار تھا؟ جو لوگ تاریخ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ اصل اختیار ان کے پاس تھا جنہوں نے ہتھیار کو ڈویلپ کیا‘ بنایا۔ جنہوں نے لڑائیوں میں بے پناہ قربانیاں دیں‘ ہر محاذ پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے قدم روکے! جو قوم کی آرزئوں‘ امنگوں اور ارادوں کے محور ومرکز ہیں۔ وہ بلاسٹ نہ کرنے کی تضحیک کیونکر برداشت کر پاتے؟ آسٹن بہت بڑا پولیٹیکل فلاسفر تھا۔اس کے “Concept Of Sovereignty” کو بڑی پذیرائی ملی۔اس پر کچھ اعتراضات بھی ہوئے۔ ان کا جواب دیتے ہوئے اس نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا۔”What The Soveirgn Can Not Command, He Permits.” میاں صاحب کے فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ اس قدر دلیر تھے تو ہندوستان سے پہلےیہ تجربہ کیوں نہ کیا؟ اس وقت بھی وہی پابندیاں لگی تھیں جو اس کے بعد لگیں۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان ایک تجربہ کر چکا تھا۔ گویا ان کا منطقی جواز بھی فراہم کیا جاسکتا تھا۔ اسرائیل تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے۔ اس نے کوئی بلاسٹ نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مدمقابل عربوں کے پاس اس قسم کا کوئی ہتھیار نہیں ہے۔اعتراضات اور مخالفین اپنی جگہ درست بھی ہوں تو اس امر سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دھماکہ میاں صاحب کے دور میں ہوا۔ تاریخ میں بالآخر اگر، مگر ختم ہو جاتے ہیں اور صرف واقعہ کا ذکر رہ جاتا ہے۔ اگر بات محض بحث وتمحیص تک محدود رہتی تو شاید اس قدر ’’کانٹرورسی‘‘ نہ ہوتی۔ میاں صاحب نے اس کو سیاسی سرمائے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور یوم تکبیر منا کر کچھ اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی جیسے انہوں نے تن تنہا یہ ہتھیار بنایا اور تجربہ کرکے قومی وقار کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے گئے۔ بالفرض کوئی اور ہوتا تو اتنی ہمت نہ کر پاتا۔آخری بات! ہندوستان جس طرح L.O.C کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور آئے دن بے گناہ سول آبادی پر گولے برساتا ہے اس سے لامحالہ ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ اس قسم کی ناجوازیاں بالآخر لڑائی پر منتج ہوسکتی ہے۔ کیا اسے علم نہیں ہے کہ ایک جوہری قوت سے برسرپیکار ہونے کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں۔ لالہ اس قدر احمق نہیں ہوسکتا! اسے کہیں نہ کہیں سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان کو مہلک ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ وہ ملک کون ہوسکتا ہے‘ اور کس ملک کی شہ پر ایسا کیا گیا ہے۔ جس ملک کو ہندوستان سے بھی زیادہ پاکستان کے ہتھیاروں پر ڈر خوف ہے وہ اسرائیل ہے۔ اس نے اپنے ایٹمی ہتھیار عربوں کے لئے نہیں بنائے۔ بدقسمتی سے عرب ممالک تو روایتی ہتھیاروں سے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں ہرگز یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس کے میزائلوں کا رخ بالآخر ہماری طرف ہوگا اور ہے! اسی وجہ سے وہ ہندوستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے۔ سوپر پاور کی طرف سے گارنٹیاں بھی وہ ہی دے رہا ہے۔ اسے اس بات کا پورا ادراک ہے کہ عربوں کو بالآخر پاکستان کی مدد لینا پڑے گی اور یہ ملک ہی ان کا ممدومعاون اور محافظ ہوگا۔ ہمارے لئے آنے والے پانچ برس بہت اہم ہیں۔ ایک دفعہ انٹر کانٹی نینٹل میزائل بن جائیں تو پھر کوئی طاقت بھی میلی آنکھ سے مملکت خداداد کو نہیں دیکھ سکے گی۔(ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں