کیا محمد بن سکمان امریکہ کے کتھ پتلی ہیں ؟ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے تمام اندرونی معاملات خود ہی بے نقاب کر دیے

کیا محمد بن سکمان امریکہ کے کتھ پتلی ہیں ؟ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے تمام اندرونی معاملات خود ہی بے نقاب کر دیے

نیویارک(ویب ڈیسک) امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے نے 2019 میں سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے حوالے سے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق ان کا یہ بیان محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل کی رواں ہفتے اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا

جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ نے 2019 میں سعودی عرب کو اسلحے کے فروخت کے وقت اس سے یمن میں شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کا مکمل اندازہ نہیں لگایا تھا۔جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مائیک پومپیو نے بتایا کہ ‘ہم نے اسلحے کی فروخت کے حوالے سے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘مجھے میری ٹیم کے کام پر فخر ہے، ہمیں اس کے بہترین نتائج ملے اور ہم نے جانیں ضائع ہونے سے بچائیں۔’تحریر جاری ہے‎واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے کانگریس کے جائزہ عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران سے کشیدگی کے معاملے پر ایمرجنسی ڈکلیئر کرکے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو 8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے مئی 2019 کے فیصلے کی تحقیقات کی درخواست کی تھی۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے رپورٹ سے متعلق انٹرویو کے بجائے تحریری جواب جمع کرا دیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ نے 2019 میں سعودی عرب کو اسلحے کے فروخت کے وقت اس سے یمن میں شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کا مکمل اندازہ نہیں لگایا تھا۔جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مائیک پومپیو نے بتایا کہ ‘ہم نے اسلحے کی فروخت کے حوالے سے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘مجھے میری ٹیم کے کام پر فخر ہے، ہمیں اس کے بہترین نتائج ملے اور ہم نے جانیں ضائع ہونے سے بچائیں۔’تحریر جاری ہے‎واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے کانگریس کے جائزہ عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران سے کشیدگی کے معاملے پر ایمرجنسی ڈکلیئر کرکے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو 8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے مئی 2019 کے فیصلے کی تحقیقات کی درخواست کی تھی۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے رپورٹ سے متعلق انٹرویو کے بجائے تحریری جواب جمع کرا دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں