حیرت انگیز انکشافات سے بھری سچی کہانی

حیرت انگیز انکشافات سے بھری سچی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) حاجی سلطان راہی مرحوم کی اکثر فلموں کے ہدایتکار حسن عسکری اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جہانگیر مغل ایسے فائٹ مین اور اسٹنٹ کرنے والے تھے لیکن یہ فلم اس لیول کی نہ بن سکی جس طرح کی وہ چاہتے تھے۔ اسٹنٹ مینوں میں ان کا بہت اچھا دوست تھا

اس کا نام چنگیزی تھا۔ اس کا بلتستان سے تعلق تھا۔ سلطان راہی کی جدوجہد میں اس کا بھی نمایاں کردار تھا۔ وہ سلطان راہی کو سائیکل پر اسٹوڈیو لاتا تھا وہ بھی سلطان راہی کی طرح آگے نکلنا چاہتا تھا۔چنگیزی انسان دوست، انا پرست اور خود دار آدمی تھا۔ سلطان راہی چنگیزی کو بہت مجبور کرتے تھے کہ کسی کاروبار کیلئے مجھ سے پیسے لے لو، لیکن وہ بہت خود دار اور انا پرست آدمی تھا۔ وہ چنگیزی کو کسی بزنس کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر وہ اپنی خود داری میں رہا اور اسی طرح یومیہ اجرت پر کام کرتا رہا۔ حالانکہ سلطان راہی بہت بڑا آرٹسٹ بن گیا تھا۔ اس نے راہی صاحب کے ساتھ بہت وقت گزارا ۔ جب سلطان راہی سپر اسٹار بن گئے تب بھی چنگیزی ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی نہیں کھاتا تھا۔ حسن عسکری کہتے ہیں کہ سلطان راہی سے بڑے لوگوں نے مالی فوائد بھی لئے ہیں لیکن میں نے کبھی ان سے کوئی صلہ نہیں مانگا۔ فلم ’’ وحشی جٹ‘‘ جیسی کامیابی کے باوجود کبھی کوئی تقاضا نہیں کیا۔ میں نے ہر فلم میں راہی صاحب کو ان کی فلم کا معاوضہ ادا کیا۔ فلم ’’طوفان‘‘ کی کامیابی کے بعد میں نے ٹیوٹا کرولا گاڑی خریدی لیکن ’’جٹ دا کھڑاک‘‘ فلم میں مجھے مالی خسارہ ہوا۔ میری طرف سلطان راہی کا معاوضہ رہتا تھا، میں نے سوچا کہ گاڑی بیچ دوں اور راہی کا معاوضہ ادا کر دوں اور مجھے بھی کچھ پیسے بچ جائیں گے۔ سلطان راہی نے

مجھ سے معاوضے کا تقاضا کبھی نہیں کیا تھا لیکن راہی صاحب کے کچھ مخلص ’’دشمن نما دوستوں‘‘ نے ان سے کہا کہ حسن عسکری گاڑی بیچنا چاہتا ہے آپ اس کو پیسے دے دیں۔ راہی صاحب نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا لیکن پتہ نہیں شاید کسی کے بہکاوے میں آ گئے اور انہوں نے گاڑی لے لی۔ معاوضے کے 30 ہزار رہتے تھے جبکہ گاڑی کی قیمت زیادہ تھی مگر انہوں نے مجھے باقی پیسے ادا نہیں کئے۔ جس طرح وہ مجھ سے پیسے کا مطالبہ نہیں کرتے تھے اسی طرح میں نے بھی ان سے کسی قسم کا کوئی تقاضا نہیں کیا۔ ایک دن ایک معروف ڈائریکٹر میرے پاس آئے اور کہا کہ میں آج سلطان راہی کے پاس ڈیٹ لینے گیا تھا لیکن وہ بہت ناراض تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم سب نے مل کر مجھے لوٹ لیا ہے۔ جب کام نہیں ہوتا ہے تو کوئی بھائی، تو کوئی بیٹا بن جاتا ہے، کوئی باپ بن جاتا ہے لیکن میرا معاوضہ ادا نہیں کرتے۔ حسن عسکری نے کہا کہ میں اس ڈائریکٹر کا نام نہیں لوں گا، ہماری باری اسٹوڈیو کے فوارے پر ملاقات ہوئی اور وہ مجھے سلطان راہی کی ناراضی کا بتاتے رہے تو میں نے کہا کہ میں تو ان لوگوں میں شامل نہیں ہوں۔ اس پر اس ڈائریکٹر نے کہا کہ سلطان راہی نے تمہارا نام بھی لیا ہے۔ اس دوست ڈائریکٹر نے مجھے کہا کہ کیا آپ یہ بات سلطان راہی کے سامنے کہہ سکتے ہیں تو میں نے کہا کہ ہاں میں کہہ سکتا ہوں۔ میں نے تو اس کے معاوضے کے بدلے اپنی گاڑی دے دی تھی۔ اس نے کہا کہ چلو پھر ٹیکسی پر بیٹھو اور اس کے سامنے بات کرو۔

میں سلطان راہی کے غصے کے بدلے میں اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لئے دوست ڈائریکٹر کی باتوں میں آ گیا اور ہم اے ایم اسٹوڈیو چلے گئے جہاں سلطان راہی، اسلم ڈار کی فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے، مین نے ان کو سیٹ سے باہر بلایا، وہ مجھے دیکھ کر کچھ پریشان ہو گیا۔ اس دوست ڈائریکٹر نے راہی صاحب کے سامنے کہا تو سلطان راہی سے اس وقت کوئی جواب نہ بن پڑا، اپنی خفت کو مٹانے کیلئے کہا کہ وہ گاڑی کیا تھی؟ بیکار گاڑی تھی۔ میں نے اس کے ٹائر بھی بدلوائے ہیں۔ انہوں نے غصے سے اپنے ڈرائیور رمضان کو بلایا اور کہا کہ گاڑ ی کے ٹائر اتار کر گاڑی حسنی کو دے دو۔ میں نے کہا کہ میں گاڑی لینے نہیں آیا۔ میں صرف کلیئر کرنے آیا ہوں کہ میں نے کبھی آپ سے کوئی فائدہ نہیں لیا۔ ہمیشہ آ پ کو اپنی فلم کا معاوضہ ادا کیا ہے۔ میں نے تو اپنی نئی گاڑی آپ کو دے دی تھی اور آپ نے اس کے باقی پیسے بھی نہیں دیئے۔ کہتے ہیں کہ زخم بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم نہیں بھرتے۔ اگر راہی صاحب میری گاڑی کی بات نہ کرتے تو مجھے دکھ نہ ہوتا۔ کچھ دنوں کے بعد جب سلطان راہی نارمل ہوئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے غصہ آ گیا تھا، بس یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے مجھے استعمال کرتے ہیں۔ ہم دونوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن ان کو ناکامی ہوئی۔ سلطان راہی اپنے دوستوں کے بہکاوے میں آ گئے تھے، ان کو مرتے دم تک یہ افسوس رہا کہ میں نے حسنی سے گاڑی لی ہے اور مجھ سے زیادتی ہو گئی ہے۔ وہ اس زیادتی کا مختلف حیلے بہانوں سے ازالہ بھی کیا کرتے تھے۔ اکثر میری شوٹنگز پر آ کر کہتے کہ یہ 50 ہزار رکھ لو اور صبح تمہارا بیک گرائونڈ میوزک ہے۔ اگر میں نہ لیتا تو وہ کہتے کہ سنا نہیں تم نے میں نے کیا کہا ہے۔ پھر وہ باپ بن کر دھمکی والے انداز میں پیسے دے کر چلے جاتے۔ حاجی فقیر محمد کی پہلی کامیاب فلم ’’شیردل‘‘ میں نے بنائی۔ ہم پی سی میں بیٹھے تھے کہ سلطان راہی نے حاجی فقیر محمد کے سامنے آ کر کہا کہ ساری فلم انڈسٹری نے مجھ سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن حسن عسکری ایسا بندہ ہے جس نے مجھ سے کبھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرا اور سلطان راہی کا رشتہ اور بھی مضبوط ہوتا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں