مرحوم جنید جمشید کی تیسری اہلیہ شرعی قوانین کے مطابق عدالت پہنچ گئیں، مگر وجہ کیا بنی؟ انتہائی افسوسناک خبر

مرحوم جنید جمشید کی تیسری اہلیہ شرعی قوانین کے مطابق عدالت پہنچ گئیں، مگر وجہ کیا بنی؟ انتہائی افسوسناک خبر

کراچی (ویب ڈیسک) جنید جمشید کی تیسری اہلیہ راضیہ مظفر نے شرعی قوانین کے مطابق جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم مرحوم جنید جمشید کی پہلی بیوی کی طرف سے سے ان کے حقوق سے انکار کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مدعی نے بدھ کے

روز سندھ ہائی کورٹ کراچی میں مقدمہ دائر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کی رہائشی ہیں اور جنید جمشید کی بیوہ ہیں ، جنہوں نے اس سے 20 اکتوبر 2009 کو شادی کی تھی۔ جنید جمشید7 دسمبر 2016 کو طیارے کے حادثے میں المناک موت سے قبل تک ہر ماہ رقم بھیج کر ان اخراجات برداشت کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ جنید جمشید کے بیٹے اور ان کی پہلی بیوی کے دوسرے بچوں نے ان کی وراثتی حقیقت کو چھپا کر عدالت سے جانشینی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔ اب اسے مرحوم کی شریک حیات کی طرف سے وراثت کے حق سے انکار کیا جارہا ہے۔ رضیہ مظفر نے جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق لاکھوں روپے مالیت کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ انہوں نے اپنی پہلی بیوی سے جنید جمشید کے بچوں کے حق میں جاری کردہ انتظامیہ کے خط کو منسوخ کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ مدعی نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ وہ شرعی قوانین کے مطابق مرحوم جنید جمشید کی جائیداد میں سے ان کو وراثت کا حصہ عطا کریں اور تمام ورثاء کے درمیان جائیداد کی تقسیم اور منتقلی کو ہدایت کرے۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں ایس ایچ سی کے سنگل بنچ نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے بعد ورثاء کو 2 ستمبر کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں