حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا بے مثال واقعہ

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا بے مثال واقعہ

ایک شخص کو اپنی بیمار بیٹی کے لیے شہد کی ضرورت پڑی۔ اسے بتایا گیا‘ کوئی دیر میں ایک قافلہ مدینہ میں داخل ہونے والا ہے۔ اس کے سردار سے فرمائش کرنا۔ سردار وہ تھا، جس کی وجاہت اور مردانہ جمال ضرب المثل تھا۔ سائل راہ میں جا کھڑا ہوا۔ درخواست کی تو غلام سے اس نے کہا:

شہد کا ایک مٹکا اسے دے دو۔ اس نے کہا: آقا دو گھڑے اونٹ پر لدے ہیں۔ ایک اتار لیا تو وزن برابر نہ رہ سکے گا۔ حکم ملا: دونوں گھڑے دے دو۔ وہ بولا: اتنا بار یہ بیچارہ کیونکر اٹھا سکے گا۔ کہا: اونٹ بھی دے دو۔ یہ الفاظ سنے تو وہ بھاگا۔ سردار نے پوچھا: ایک اور دو گھڑوں کا کہا تو تامل کا شکار رہے مگر تیسری بار ایسی عجلت؟ صحبت یافتہ مرد نے کہا: آقا مجھے اندیشہ ہوا کہ ایک ذرا سی تاخیر بھی کی تو آپ مجھے بھی اس کے حوالے کر دیں گے۔ کہا: تمہارے حق میں یہ بہتر ہوتا، تم آزاد کر دیے جاتے۔۔۔کیا عجب ہے کہ بعد میں وہ آزاد ہی ہو گیا ہو۔ یہ تھے حضرت عثمان غنی ،اوراسی لیے انہیں غنی کہا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں