بریکنگ نیوز: متحدہ عرب امارات کی منافقت بے نقاب : امن معاہدے کی آڑ میں امت مسلمہ کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جانے والا ہے ؟ بی بی سی کی حساس معاملہ پر خصوصی رپورٹ

بریکنگ نیوز: متحدہ عرب امارات کی منافقت بے نقاب : امن معاہدے کی آڑ میں امت مسلمہ کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جانے والا ہے ؟ بی بی سی کی حساس معاملہ پر خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو منافقانہ طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔جمعرات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور

ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔بی بی سی کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ ‘منافقانہ’ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے ‘منافقانہ طرز عمل’ کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے کیونکہ ترکی کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے۔اس تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے خلاف ‘فلسطینی عوام اور انتظامیہ کا سخت ردعمل جائز ہے۔”یہ بہت پریشان کن بات ہے، متحدہ عرب امارات کو عرب لیگ کی جانب سے تیار کردہ عرب امن منصوبے کے ساتھ چلنا چاہیے تھا۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ اس تین طرفہ اعلان کو فلسطینی عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔’اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جمعرات کو ہونے والے معاہدے کو مختلف حلقوں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ، بنیامین نتن یاہو اور ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔آنے والے ہفتوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود آپس میں ملاقات کر کے سرمایہ کاری، سیاحت، براہِ راست پروازوں، سلامتی،

مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، صحت، ثقافت، ماحولیات، سفارت خانوں کے قیام، اور باہمی فائدے کے دیگر معاملات پر دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے دو سب سے متحرک معاشروں اور جدید معیشتوں کے درمیان براہِ راست تعلقات کے قائم ہونے سے معاشی ترقی ہو گی، ٹیکنالوجی میں نت نئی ایجادات ہوں گی اور عوام کے آپس میں تعلقات بہتر ہوں گے جس سے خطہ بدل جائے گا۔‘اس کے علاوہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مجوزہ امن منصوبے ’ویژن فار پیس‘ میں متعین کردہ علاقوں پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرنا بھی روک دے گا۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس منصوبے میں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں یہودی بستیوں اور سٹریٹجک اعتبار سے اہم وادی اردن کے اسرائیل میں انضمام کے اسرائیلی منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں۔فلسطینیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام ان کی آزاد ریاست کی امیدیں ختم کر دے گا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا۔عالمی برادری فلسطین کے اس مؤقف کی اکثریتی طور پر حمایت کرتی ہے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ’مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک سٹریٹجک ایجنڈا‘ لانچ کرنے کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ کام کریں گے۔ تینوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ’خطے میں خطرات اور مواقع کے بارے میں مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں، اور سفارتی تعلقات، زیادہ معاشی تعاون اور قریبی دفاعی تعلقات کے ذریعے استحکام کو فروغ دینے کا بھی مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔‘فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ ’غداری‘ ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات فلسطین سے اپنا سفیر بھی واپس بلوا رہا ہے۔مکمل سفارتی تعلقات اور سفارتخانوں کا قیام، اور اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعلقات کا معمول پر آنا ایک اہم سفارتی قدم ہے۔ مگر اس سے لامحالہ سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا اس معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد ہو سکے گا؟ اور کیا دیگر خلیجی ممالک بھی ایسا ہی راستہ اپنائیں گے؟تاہم اس معاہدے میں تمام فریقوں کے لیے مختصر مدتی فوائد موجود ہیں۔متحدہ عرب امارات کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اسے اس معاہدے سے فوری طور پر کیا فوائد حاصل ہوں گے، مگر اس کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ضرور بہتر ہوں گے، اور اسرائیل کے ساتھ معاہدے سے اسے معاشی، دفاعی اور سائنسی میدانوں میں خاصہ فائدہ ہوگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خارجہ پالیسی کی فتح ہو سکتی ہے جو نومبر میں دوبارہ انتخابات لڑیں گے۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں