بریکنگ نیوز: اسرائیل جیت گیا ، فلسطینی ہار گئے ۔۔۔ اسرائیل نے معاہدے کے 48 گھنٹوں کے اندر یوٹرن لے لیا ۔۔۔۔ فلسطین کے حوالے سے ایسا اعلان کہ متحدہ عرب امارات کا شیخ بھی ناقابل تلافی نقصان پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا

بریکنگ نیوز: اسرائیل جیت گیا ، فلسطینی ہار گئے ۔۔۔ اسرائیل نے معاہدے کے 48 گھنٹوں کے اندر یوٹرن لے لیا ۔۔۔۔ فلسطین کے حوالے سے ایسا اعلان کہ متحدہ عرب امارات کا شیخ بھی ناقابل تلافی نقصان پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا

بیت المقدس (ویب ڈیسک) اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے ‘امن معاہدے‘ کے اعلان پر عالمی برادری نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔حماس نے اسے ‘اسرائیلی قبضے اورجرائم کا صلہ‘ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ’تاریخی دن‘ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں تاہم واضح کیا کہ وہ فلسطینی علاقوں کے انضمام میں محض تاخیر کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔ ‘انضمام کا ہمارا منصوبہ برقرار ہے‘ اور ’ہم اپنی زمین پر اپنے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔‘اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا کہ ‘یہ تاریخی دن‘ہے۔ انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ‘اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں آج ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔‘اسرائیلی وزیر دفاع اور متبادل وزیر اعظم بینی گینٹز نے اسے ‘انتہائی اہم‘ معاہدہ قرار دیا اور عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی اپیل کی۔ اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطی میں قیام امن اور دوملکوں کے حل کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔خیال رہے کہ اس ‘امن معاہدے‘ کے بعد متحدہ عرب امارات یہودی ریاست کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا ہے۔ اب تک صرف اردن اور مصر ہی وہ دو ممالک تھے، جنہوں نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ ان دو ریاستوں کے برعکس خلیجی عرب ممالک میں سے کسی کے بھی اسرائیل کے ساتھ کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے اسرائیلی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کیا تھا۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے

اسرائیلی اور فلسطینی رہنماوں کو با معنی بات چیت شروع کرنے کا موقع ملے گا اور اقو ام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور باہمی معاہدوں کے مطابق دو ریاست کے حل کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔گوٹیرس کا کہنا تھا کہ انضمام کی وجہ سے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماو ں کے درمیان ‘بات چیت کا دروازہ بند‘ ہوگیا تھا اور دو ریاست حل کے تحت ایک فلسطینی مملکت کے قیام کے امکانات ’ختم‘ ہوگئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں میں اپنی خودمختاری کے اعلان کو عارضی طور پر معطل کرے گا۔متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو جرات مندانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین طویل عرصے سے جاری تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا۔متحدہ عرب امارات کے رہنما شیخ محمد بن زائد النہیان نے ایک ٹوئٹ میں کہا”اس معاہدے کے بعد فلسطینی علاقوں کا اسرائیل میں مزید انضمام رک جائے گا۔” متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘بیشتر ممالک اسے دو ریاستی حل کے حوالے سے ایک ٹھوس قدم کے طور پر دیکھیں گے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ایک ‘بہت بڑی پیش رفت‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے دو عظیم دوستوں کے مابین تاریخی امن معاہدہ‘ہے۔بعدازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے خطے میں مسلمان پڑوسیوں کے مابین مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘کچھ ایسی پیش رفت متوقع ہیں جس کے بارے میں ابھی بات نہیں کرسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں