بڑا تہلکہ : اب کون سے اسلامی ممالک اوپر نیچے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں ؟ بی بی سی نے بڑی بریکنگ نیوز دے دی

بڑا تہلکہ : اب کون سے اسلامی ممالک اوپر نیچے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں ؟ بی بی سی نے بڑی بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) اسرائیل کے وزیر برائے انٹیلیجینس کا کہنا ہے کہ بحرین اور عمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو باضابطہ بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی پیروی کرنے والے اگلے دو خلیجی ممالک ہو سکتے ہیں۔گذشتہ جمعرات کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اپنے سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا اعلان کیا تھا

جس کے تحت مشرق وسطی کی سیاست بشمول مسئلہ فلسطین اور ایران کے حوالے سے اقدامات کو نئی شکل دی جائے گی۔بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔ اسرائیل کے وزیر برائے انٹیلیجنس ایلی کوہن نے آرمی ریڈیو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امارات، اسرائیل معاہدے کے نتیجے میں مزید خلیجی ممالک اور افریقہ کے مسلم ممالک کے ساتھ بھی معاہدے ہوں گے۔‘انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں بحرین اور عمان یقیناً ایجنڈہ پر ہیں۔ اس کے علاوہ، میرے جائزے کے مطابق، اگلے سال کے دوران اس بات کا امکان کہ افریقہ کے ممالک کے ساتھ بھی امن معاہدہ ہو گا۔ ان افریقی ممالک میں سرِفہرست سوڈان ہے۔‘یاد رہے کہ بحرین اور عمان نے امریکی کی سرپرستی میں کیے جانے والے اسرائیل، امارات معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان دونوں ممالک نے اس حوالے سے کوئی رائے ظاہر نہیں کی کہ آیا وہ بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں گے یا نہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو گذشتہ دو برسوں کے دوران عمان اور سوڈان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اس میں اسرائیلی وزیر اعظم کا اکتوبر 2018 میں عمان کا دورہ بھی شامل ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اراکین کو بتایا ہے کہ ’مجھے توقع ہے کہ مزید ممالک ہمیں امن کی خواہش کے تحت جوائن کریں گے۔‘’یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے جو عرب دنیا کے ساتھ امن کو آگے بڑھائے گی اور اس کے ذریعے فلسطینیوں کے ساتھ ایک حقیقی، پُرامن اور محفوظ امن کی داغ بیل پڑے گی۔‘

فلسطین نے اس معاہدے کو ’غداری‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد اتوار کے روز پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے عوامی علم میں لاتے ہوئے پہلا ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی فون لائنز کھل چکی ہیں، اس سے قبل امارات سے اسرائیل فون کرنا ناممکن تھا۔اسرائیل نے سنہ 1979 میں مصر اور سنہ 1994 میں اُردن کے ساتھ امن معاہدات کیے تھے۔ مگر متحدہ عرب امارات کے دیگر خلیجی ممالک کی طرح اسرائیل کے ساتھ نہ تو سفارتی تعلقات تھے اور نہ ہی معاشی۔عمان کے ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور ماضی میں جب بھی ایران اور امارات کے تعلقات میں تلخی آئی تو عمان نے پُل کا کردار ادا کیا۔بحرین سعودی عرب کا انتہائی قریبی اتحادی ہے۔ بحرین نے اب تک اسرائیل، امارات معاہدے پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے۔ بحرین نے سنہ 2019 میں ہونے والی ایک سکیورٹی کانفرنس میں ایک اسرائیلی عہدے دار کی میزبانی کی تھی، اسی طرح اس ملک نے امریکہ کی زیر قیادت ہونے والی ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کی تھی۔فلسطین نے اس معاہدے کو ‘غداری’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہےاس کانفرنس کا مقصد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطی امن انیشیئیٹیو کے تحت فلسطین کی معیشت کو بہتر کرنا تھا۔کویت میں حکومتی ذرائع نے مقامی اخبار القابوس کو بتایا ہے کہ کویت کی اسرائیل سے متعلق پوزیشن میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے اور کویت وہ آخری ملک ہو گا جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل کرے گا۔دوسری جانب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کورونا وائرس کی تحقیق میں تعاون کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔امارات کی کمپنی ‘اپیکس نیشنل انویسٹمنٹ’ اور اسرائیل کی فرم ‘ٹیرا گروپ’ صحت کے دیگر شعبوں میں تحقیق کے علاوہ کورونا وائرس کے تشخیصی عمل کو تیز تر بنانے اور ایک معیاری ٹیسٹنگ ڈیوائس تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں