’’یہ پہلا حکمران ہے جس نے آئی پی پیز کو ہاتھ ڈالا ہے ورنہ۔۔‘‘ عمران حکومت کا شاندار اقدام، سینئر تجریہ کار ایاز امیر کا خصوصی تبصرہ

’’یہ پہلا حکمران ہے جس نے آئی پی پیز کو ہاتھ ڈالا ہے ورنہ۔۔‘‘ عمران حکومت کا شاندار اقدام، سینئر تجریہ کار ایاز امیر کا خصوصی تبصرہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ا یازامیر نے کہا ہے کہ یہ پہلا حکمران آیا ہے جس نے آئی پی پیز کو ہاتھ تو ڈالا ہے ورنہ پی پی پی اور ن لیگ میں تو اتنی ہمت ہی نہیں تھی۔ نجی ٹی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایازامیر نے کہا

کہ اگر کوئی باہر کی فوج آتی مثال کے طور پر چنگیز خان کی فوج آتی اور معاہدہ بندوق پہ پاکستان سے کرتی، اس سے سخت معاہدہ نہیں ہوسکتا، انگریز دوبارہ پاکستان پر قابض ہوجائیں تو یہ معاہدے جو پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومت نے کئے اور بعد میں ن لیگ حکومت نے کئے، اس سے زیادہ سخت ایک فاتح فوج نہیں کرسکتی تھی جو پاکستان کے گلے میں طوق لٹکارہا۔ ایازامیر نے مزید کہا کہ نوازشریف جب آئے تھے تو ایک ہی جھٹکے میں ان آئی پی پیز کو 480 ارب روپے دیدئیے بغیر کسی پروسیجر، بغیر کسی آڈٹ کے۔یہ پہلا حکمران آیا ہے جس نے آئی پی پیز کو ہاتھ تو ڈالا ہے ورنہ پی پی پی اور ن لیگ میں تو اتنی ہمت ہی نہیں تھی، یہ ایگریمنٹ نہیں ہوئی، یہ ابھی ایم او یو ہے ۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ ایک ایگریمنٹ ہو۔ ایازامیر کا کہنا تھا کہ یہ پہلا اچھا قدم ہے کہ ہم ڈالروں سے روپوں میں آگئے ورنہ پہلے تو ہم ڈالروں میں ادائیگی کررہے تھے۔ اتنا یرغمال ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کو نہیں بنایا جتنا ان آئی پی پیز نے ہمیں بنارکھا تھا۔ ایازامیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان سے زیادہ سخت معاہدہ کرنا چاہئے یہ باہر کے سیٹھ نہیں ہیں، یہ یہاں کے سیٹھ ہیں۔ اس موقع پر خاورگھمن کا کہنا تھا کہ معاہدے کے جو نکات آئے ہیں وہ مثبت ہیں لیکن حکومت کو جس چیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ ہیں لائن لاسز، ہمارے لائن لاسز 32 فیصد ہیں جس کی وجہ سے ہمیں 700 سے 800 ارب روپیہ سالانہ اضافی دینا پڑتا ہے اور اسکا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں