صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کرنیوالی معروف سندھی شخصیت تاج جویو کا بیٹا سارنگ جویو گھر واپس پہنچ گیا ، نوجوان کی جیب میں موجود رقم دگنی کیسے ہو گئی ؟ والد کے دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کرنیوالی معروف سندھی شخصیت تاج جویو کا بیٹا سارنگ جویو گھر واپس پہنچ گیا ، نوجوان کی جیب میں موجود رقم دگنی کیسے ہو گئی ؟ والد کے دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک) 11 اگست کو کراچی کے علاقے اختر کالونی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہونے والے سارنگ جویو گذشتہ رات واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔سارنگ جویو کے والد تاج جویو نے میڈیا کو بتایا کہ اُن کے بیٹے سارنگ جویو کے ساتھ مارپیٹ ہوئی ہے اور اُنھیں اب کراچی کے

ایک پرائیوٹ ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔نامور صحافی خدائے نور ناصر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سارنگ جویو نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ اس وقت طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے زیر علاج ہیں، امید ہے کہ جلد سندھ سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج میں شامل ہوں گا، سماجی ویب سائئٹ فیس بک پر اپنی بیوی کی وال پر اس بیان میں انھوں نے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب سمیت دنیا بھر کے سماجی کارکنوں، صحافیوں اور سیاست دانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے احتجاج اور دعاؤں کی بدولت وہ اپنے گھر پہنچ پائے ہیں۔سارنگ نے اپنے والد تاج جویو کو صدارتی ایوراڈ واپس کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انھوں نے سندھ اورسندھ کے ادیبوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔معروف ادیب تاج جویو کے مطابق وہ خود اسلام آباد میں ہیں جہاں وہ سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ تاج جویو نے چودہ اگست کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی قبول کرنے سے اس لیے انکار کیا تھا کیونکہ بقول اُن کے سندھ کے سو کے قریب لوگ گمشدہ ہیں جن میں اُن کا اپنا بیٹا بھی شامل ہیں۔تاج جویو نے بتایا کہ اُن کے بیٹے سارنگ کو نامعلوم افراد نے رات تقریباً اُسی وقت سہراب گوٹ کے علاقے حسن سکوائر میں چھوڑ دیا جس وقت وہ گیارہ اگست کو اُنھیں گھر سے لے گئے تھے۔انھوں نے بتایا: ‘گھر سے اغوا کرتے وقت سارنگ کے جیب میں 1500 روپے تھے، اب وہ ڈبل ہوگئے ہیں اور اُن کو پندرہ سو روپے اور دیے گئے ہیں۔’

تاج جویو کے مطابق حسن سکوائر سے پھر اُن کا بیٹا ٹیکسی میں اپنے گھر پہنچ گیا تھا۔تاج جویو نے بتایا کہ تین روز تک مسلسل سارنگ کو جگائے رکھا گیا تھا۔ ’ایک ڈاکٹر دوست نے اسے دیکھا تو کہا کہ اس کو آرام کی ضرورت ہے۔‘ وہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے یہ سوال رکھیں گے کہ سارنگ کو جسمانی اور ذہنی طور پر جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیسے ہوگا اور کون کرے گا۔سنیچر کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اجلاس کا ایجنڈا اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں سندھ میں لاپتہ افراد کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس منعقد کیا جائے گا، اور پھر بلوچستان (کے حوالے سے)۔ انھوں نے مزید لکھا کہ آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجوہات پر غیر رسمی گفتگو کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ، آئی جی، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، اور سندھ میں کام کرنے والے تمام انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان کو بلایا جائے گا۔تاج جویو کے مطابق وہ آج سینیٹ کی اسی کمیٹی میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے ہیں اور دوپہر کو اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ تاج جویو اپنے بیٹے سارنگ جویو کی بازیابی اسی اجلاس کا پریشر قرار دیتے ہیں اور اُن کے مطابق اسی وجہ سے اُن کے بیٹے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔سارنگ جویو ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کراچی کی سندھ ابھیاس اکیڈمی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ، اور سندھ سجاگی فورم نامی تنظیم کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔ وہ سندھ سے لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت غیر مقامی افراد کے سندھ کے ڈومیسائل بننے، اور مردم شماری وغیرہ سمیت کئی دیگر مسائل کے حوالے سے بھی سرگرم رہے ہیں۔ سارنگ جویو کے والد تاج جویو نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں