بس بہت ہوا ۔۔۔!!!ترکی نے بحیرہ روم میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دیں

بس بہت ہوا ۔۔۔!!!ترکی نے بحیرہ روم میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دیں

انقرہ (ویب ڈیسک) کشیدگی کم کرنے کے مطالبات نظرانداز، ترکی نے بحیرہ روم میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں، ترکی نے اعلان کیا ہے کہ ہم متنازعہ مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں گیس فیلڈ کی تلاش کی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ

مشرقی بحیرہ روم کے متنازعہ سمندری علاقے میں گیس کی تلاش کا کام فوری طور پر بند کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برسلز کی طرف سے انقرہ سے یہ مطالبہ ترکی کے اس اعلان کے بعد کیا گیا کہ وہ قبرص کے جنوب مغربی ساحل کے قریب اگلے ہفتے سے گیس کی تلاش کے لیے سمندر میں ڈرلنگ کا کام تیز تر کر دے گا۔ اس وجہ سے ترکی اور یونان کے مابین شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔یہ دونوں ممالک نیٹو کے رکن بھی ہیں۔ یونان اور قبرص کے یورپی یونین کا رکن ہونے کی وجہ سے یورپی یونین یونان کے موقف کی حامی ہے۔گزشتہ ہفتے اس تنازعے کی وجہ سے فرانس نے یونان کی حمایت میں متعلقہ سمندری خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔تاہم یورپی یونین کے مطالبے کے باوجود ترکی نے بحیرہ روم میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں ہیں۔ ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ترکی کا گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں موجود “یاووز” جہاز جو قبرص کے ساحل پر کئی ماہ سے موجود ہے، اس جزیرے کے جنوب مغرب میں 18 اگست سے 15 ستمبر تک اپنی سرگرمیاں انجام دے گا۔اس حوالے سے قبرص کی حکومت نے پانیوں میں ترک ڈرلنگ جہاز کے قیام کی مدت میں توسیع کے لیے انقرہ کی انتباہ کے خلاف ایک بحری انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی کو قبرص کے پانیوں میں مدخلت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ لیکن ترکی کی جانب سے ڈرلنگ تیز کرنے کا بیان جاری کیا گیا ہے اور انقرہ حکومت اسی بیان پر قائم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں