بڑا سیاسی تہلکہ : مولانا جی چال چل گئے ، نواز شریف کے ساتھ ملکر عمران اینڈ کمپنی کی بنیادیں ہلا دینے والا قدم اٹھا لیا گیا

بڑا سیاسی تہلکہ : مولانا جی چال چل گئے ، نواز شریف کے ساتھ ملکر عمران اینڈ کمپنی کی بنیادیں ہلا دینے والا قدم اٹھا لیا گیا

کراچی(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام (ف)سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ، آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات کودور کردیا اور فضل الرحمٰن سے کہا ہے کہ وہ رہبر کمیٹی کا اجلاس بلائیں۔اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے

ن لیگ پابند ہوگی۔ جے یو آئی ذرائع کے مطابق انہیں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے حوالےسے ماضی میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رویوں پر تحفظات تھے۔پی ایم ایل این اور پی پی پی جب مشکل میں پھنس جاتی ہے تو مولانا فضل الرحمٰن کے پاس آتے ہیں تاہم جب مولانا فضل الرحمٰن حکومت کو گرانے کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں تو یہی جماعتیں حکومت کو بچانے کے لئے سہارا دیتے ہیں ۔اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں منگل کو اسلام آباد میں جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہواجس میں کے پی کے اور بلوچستان اسمبلی میں جے یو آئی سے تعلق رکھنے والےاپوزیشن رہنما بھی شریک ہوئے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گندم کی خورد برد کے معاملے میں نیب آفس سکھر میں پیش ہوکر سوا ایک گھنٹے تک بیان ریکارڈ کرایا، نیب حکام کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ چیئرمین نیب کی جانب سے سندھ میں اربوں روپے کی گندم کی خورد برد کی تحقیقات کیلئے ڈی جی سکھر نیب کی سربراہی میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں طلب کیے جانے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور سوا گھنٹے تک گندم کی خورد برد کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ذرائع کے مطابق بیان ریکارڈ کرانے کے دوران تحقیقاتی ٹیم نے ان سے مختلف سوالات بھی کیے جن کا وزیر اعلیٰ سندھ نے جواب بھی دیا وزیر اعلیٰ سوا گھنٹے تک نیب آفس میں موجود رہے۔ واضح رہے کہ 2017 میں سرکاری اورغیرسرکاری گوداموں سے سبسڈی اور چھ ماہ کے ادھار پر پرگندم جاری کی گئی تھی،جسکی ریکوری مقررہ مدت میں نہیں کی جاسکی تھی،نیب سکھر اب تک گندم کرپشن کی مد میں ساڑھے 13ارب روپے پلی بارگین کی مد میں وصول کرچکی ہے جبکہ ڈیڑھ ارب سے زائد رقم اب بھی مل مالکان پرواجب الادا ہے۔اس حوالے نیب کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کو 10سوالات پر مشتمل سوال نامہ ارسال کرکے آج طلب کیا گیا تھا جس سے متعلق سوالات کے جواب جمع کرانے وزیر سندھ نیب دفتر پہنچے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں