’’جب بھی اے کیو خان اپنا منہ کھولتا ہے تو وہ اپنے آپ کو گدا کیوں بناتا ہے۔‘‘ خاتون صحافی مہمل سرفراز نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو گالی دے ڈالی

’’جب بھی اے کیو خان اپنا منہ کھولتا ہے تو وہ اپنے آپ کو گدا کیوں بناتا ہے۔‘‘ خاتون صحافی مہمل سرفراز نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو گالی دے ڈالی

کراچی (ویب ڈیسک) جرنلسٹ مہمل سرفراز نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سوشل میڈیا پر گالی دے ڈالی جس پر پاکستانی صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں. سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جرنلسٹ مہمل سرفراز نے محسن پاکستان قومی ہیرو ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو اپنے ٹویٹ میں بُرا بھلا کہتے

ہوئے گالی دی مہمل سرفراز نے لکھا کہ جب بھی اے کیو خان اپنا منہ کھولتا ہے تو وہ اپنا ایک گدا کیوں بناتا ہے؟ مہمل سرفراز کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں – ارسلان بٹ نامی صارف نے سوشل میڈیا صارفین سے میمل سرفراز کے خلاف ٹرینڈ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ سب دوست چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہيں اس کے خلاف #mehmal_sarfraz_mafi_mango ٹرینڈ چلاؤ- ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ بھائی اسکی معافی سے کیا ہو گا اندر جو بغض بھرا ہوا ہے ایسے لوگو کو عدالت کے ذریعے سخت سزائیں ہوں تو انکی عقل ٹھکانے آئے گی- ایک صارف نے مہمل کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ یہ شرم سے جھکی جھکی نگاہیں اور زرداری کو سلام کرنا ،ہار ڈالروں کا گلے میں ڈال کر اور اپنی ماں کو بدنام کرنا، ازل سے ھے یہی پیشہ میرا ،میرے پچھلوں کا، اگلوں کا ،قدرت بھی انگشت بدنداں ھے،قصہ ایسےلوگوں کاعام کرنا- یوسف حسین نامی صارف نے لکھا کہ بلاول اور اُسکا خاندان کرپشن میں مشہور ہے اور وہ دوسروں کو کرپٹ کہتا پھرتا ہے۔ سندھ اور پاکستان کو تباہ کردیا اور وہ دوسروں کو نا اہل کہتا ہےایسے ہی محمل سرفراز جیالی ہے جو خود گالیوں سے کم بات نہیں کرتی اور سامنے والے اسکے جھوٹے خبر کی نشاندھی کردیں تو جسمانی تنگ کا شور – عاصم جمیل نامی صارف نے مہمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ کمینی عورتیں پھر جعلی جسمانی تنگ کرنا کا رونا روتی ہیں.. اپنی زبان دیکھو اس ذلیل عورت کی- آج تک ہم نے کسی گورے کو اپنے قومی ہیرو کو اردو میں گالی دیتے نہ سنا ہے اور نہ ہی دیکھا ہے. مسلمان گورے کی غلیظ الفاظ استعمال کر کے خود کو ماڈرن کیوں سمجھنے لگتے ہیں؟؟؟ لگتا ہے تعلیم وہاں پہنچ گئ جہاں شرفا بیٹھا کرتے تھے. عباد حیدر نامی ایک صارف نے لکھا کہ پھر تم لوگ کہتے ہوں تنگ کیا جاتا ہے سوشل میڈیا پر عورت صحافیوں کو کیا یہ الفاظ محسن پاکستان کی شان کہ لائق ہے اپکو ڈوپ مرنا چاہئے چند ٹکے کی خاطر تم لوگ اپنے دین کا ملک ضمیر کا سودا کر لیتے ہو کیوں مرنا نہیں ہے تم لوگوں نے یا ادہر بھی جاکر جھوٹ بولنے چھوٹ جانے کا سچ رہی ہوں لعنت-

اپنا تبصرہ بھیجیں